مسند امام احمد - - حدیث نمبر 4254
حدیث نمبر: 4254
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً،‏‏‏‏ فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا،‏‏‏‏ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا،‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114،‏‏‏‏ فَقَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَلِي هَذِهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي.
توبہ کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا، آپ ﷺ نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلک ذكرى للذاکرين نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں (صبح و شام) میں اور رات کے ایک حصے میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ذکر کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے (سورۃ ہود: ١١٤ ) ، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ (خاص) میرے لیے ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے ۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت ٤ (٥٢٦)، تفسیر القرآن ٦ (٤٦٨٧)، صحیح مسلم/التوبة ٧ (٢٧٦٣)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ١٢ (٣١١٤)، (تحفة الأشراف: ٩٣٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٥، ٤٣٠) (صحیح )
Top