جو چیز پاس نہ ہو اس کی بیع منع ہے اور جو چیز اپنی ضمان میں نہ ہو اس کا نفع منع ہے۔
عتاب بن اسید ؓ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو مکہ بھیجا، تو اس چیز کے نفع سے منع کیا جس کے وہ ضامن نہ ہوں۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٩) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، اور عطاء کی ملاقات عتاب ؓ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٢١٢ )
It was narrated from Ata that "Attab bin Asid said that when the Messenger of Allah ﷺ sent him to Makkah, he forbade him from profiting off of what he did not possess. (Da’if)
Top