سنن ابنِ ماجہ - حدود کا بیان - 2536
حدیث نمبر: 2533
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْقَتْلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِي بِالْقَتْلِ فَلِمَ يَقْتُلُونِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ:‏‏‏‏ رَجُلٌ زَنَى وَهُوَ مُحْصَنٌ فَرُجِمَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ رَجُلٌ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا مُسْلِمَةً وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف (رض) سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان (رض) نے ان (بلوائیوں) کو جھانک کر دیکھا، اور انہیں اپنے قتل کی باتیں کرتے سنا تو فرمایا : یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں، آخر یہ میرا قتل کیوں کریں گے ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : کسی مسلمان کا قتل تین باتوں میں سے کسی ایک کے بغیر حلال نہیں : ایک ایسا شخص جو شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کرے، تو اسے رجم کیا جائے گا، دوسرا وہ شخص جو کسی مسلمان کو ناحق قتل کر دے، تیسرا وہ شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے پھر جائے (مرتد ہوجائے) ، اللہ کی قسم میں نے نہ کبھی جاہلیت میں زنا کیا، اور نہ اسلام میں، نہ میں نے کسی مسلمان کو قتل کیا، اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد ارتداد کا شکار ہوا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : «سنن ابی داود/الدیات ٣ (٤٥٠٢) ، سنن الترمذی/الفتن ١ (٢١٥٨) ، سنن النسائی/المحاربة (تحریم الدم) ٦ (٤٠٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٦١، ٦٢، ٦٥، ٧٠) ، سنن الدارمی/الحدود ١ (٢٣٤٣) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: یہ عثمان (رض) نے حجت قائم کی ان بےرحم باغیوں پر جو آپ کے قتل کے درپے تھے، لیکن انہوں نے اس دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا، اور بڑی بےرحمی کے ساتھ گھر میں گھس کر آپ (رض) کو قتل کیا، اس وقت آپ روزے سے تھے، اور تلاوت قرآن میں مصروف تھے، «إنا للہ وإنا إلیہ راجعون»۔
It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif that 'Uthman bin 'Affan looked at them and heard them when they spoke of killing. He said: "Are they threatening to kill me? Why would they kill me? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'It is not lawful to shed the blood of a Muslim except in one of three (cases): a man who commits adultery when he is a married person, then he should be stoned; a man who kills a soul not in retaliation for murder and a man Who apostatizes after becoming Muslim.' By Allah, I never committed adultery either during Ignorance days nor in Islam, and I have never killed a Muslim soul, and I have not apostatized since I became Muslim."
Top