مسند امام احمد - حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 15911
حدیث نمبر: 140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَلْقَى النَّفَرَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَوْا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّي .
حضرت عباس بن عبدالمطلب کے فضائل
عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ قریش کے (کچھ لوگوں کا حال یہ تھا) جب ہم ان سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے تو ہمیں دیکھ کر وہ اپنی بات بند کردیتے، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو چپ ہوجاتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٣٧، مصباح الزجاجة: ٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٥) (ضعیف) (اس سند میں اعمش مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، ابوسبرہ نخعی لین الحدیث نیز محمد بن کعب قرظی کی عباس ؓ سے روایت کے بارے میں انقطاع و ارسال کی بات بھی کہی گی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٤٣٠ )
وضاحت: ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کی محبت ایمان کی نشانی ہے، اور محبت ان کی یہی ہے کہ ایمان و عمل میں ان کی روش پر چلا جائے، اور ان کا طریقہ اختیار کیا جائے، ؓ۔
Top