سنن ابنِ ماجہ - - حدیث نمبر 58
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيِّ الْمُجْمِرِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوئَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَی الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَعْمِدُ إِلَی الصَّلَاةِ وَإِنَّهُ يُکْتَبُ لَهُ بِإِحْدَی خُطْوَتَيْهِ حَسَنَةٌ وَيُمْحَی عَنْهُ بِالْأُخْرَی سَيِّئَةٌ فَإِذَا سَمِعَ أَحَدُکُمْ الْإِقَامَةَ فَلَا يَسْعَ فَإِنَّ أَعْظَمَکُمْ أَجْرًا أَبْعَدُکُمْ دَارًا قَالُوا لِمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ مِنْ أَجْلِ کَثْرَةِ الْخُطَا
اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں
نعیم بن عبداللہ نے سنا ابوہریرہ ؓ کہتے تھے جس نے وضو کیا اچھی طرح پھر نکلا نماز کی نیت سے تو وہ گویا نماز میں ہے جب تک نماز کا قصد رکھتا ہے ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹائی جاتی ہے تو جب کوئی تم میں سے تکبیر نماز کی سنے تو نہ دوڑے کیونکہ زیادہ ثواب اسی کو ہے جس کا مکان زیادہ دور ہو کہا انہوں نے کیوں اے ابوہریرہ ؓ کہا اس وجہ سے کہ اس کے قدم زیادہ ہوں گے
Top