صحیح مسلم - طلاق کا بیان - حدیث نمبر 563
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ فَرَأَى رَجُلًا يَنْزِعُ خُفَّيْهِ لِلْوُضُوءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُسَلْمَانُ:‏‏‏‏ امْسَحْ عَلَى خُفَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى خِمَارِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِنَاصِيَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ.
عمامہ پر مسح۔
زید بن صوحان کے غلام ابو مسلم کہتے ہیں کہ میں سلمان ؓ کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وضو کے لیے اپنے موزے نکال رہا ہے، تو سلمان ؓ نے اس سے کہا: اپنے موزے، عمامہ اور پیشانی پر مسح کرلیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو موزوں اور عمامہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥١١، ومصباح الزجاجة: ٢٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٩، ٤٤٠) (ضعیف) (سند میں محمد بن زید بن علی الکندی العبدی قاضی مرو کو ابو حاتم رازی نے صالح الحدیث لابأس بہ ، کہا ہے، ابن حبان نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے، اور ابن حجر نے مقبول کہا ہے، یعنی متابعت کی صورت میں، اور ابو مسلم العبدی مولیٰ زید بن صوحان بھی مقبول ہیں، اور ابو شریح بھی مقبول ہیں، متابعت کے نہ ہونے سے یہ حدیث ضعیف ہے، ان کا ترجمہ الاصابہ میں ہے )
وضاحت: ١ ؎: بوصیری نے مصباح الزجاج ۃ میں باب الصلاة في الثوب الذي يجامع فيه میں اس سیاق کو قدرے اختلاف سے دیا ہے جو یہ ہے: ابن حجر فرماتے ہیں: وقد رأيته في رواية سعدون عند ابن ماجة في نسخة صحيحة موجودة، وفيها عدة أحاديث في الطهارة لم أرها في رواية غيره، وقد تتبعتها في أماكنها بعون الله . النکت الظراف سنن ابی داود/عوض الشهري کے محقق نسخہ میں یہ حدیث ( ٢٢٩ ) نمبر پر ہے، موصوف فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہندوستانی حیدر آبادی نسخہ اور سنن ابی داود/ مصطفى الأعظمي کے نسخہ میں ساقط ہے۔
Top