مسند امام احمد - - حدیث نمبر 793
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ مَوْلَاةً لِأَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ جِئْنَا مَعَ أَسْمَائَ ابْنَةِ أَبِي بَکْرٍ مِنًی بِغَلَسٍ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا لَقَدْ جِئْنَا مِنًی بِغَلَسٍ فَقَالَتْ قَدْ کُنَّا نَصْنَعُ ذَلِکَ مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْکِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَکْرَهُ رَمْيَ الْجَمْرَةِ حَتَّی يَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ وَمَنْ رَمَی فَقَدْ حَلَّ لَهُ النَّحْرُ
عورتوں اور لڑکوں کو آگے روانہ کردینے کا بیان
اسماء بنت ابی بکر کی آزاد لونڈی سے روایت ہے کہ ہم اسما بنت ابی بکر کے ساتھ منیٰ میں آئے منہ اندھیرے تو میں نے کہا کہ ہم منیٰ میں منہ اندھیرے آئے اسماء نے کہا ہم ایسا ہی کرتے تھے اس شخص کے ساتھ جو تجھ سے بہتر تھے۔ امام مالک نے سنا بعض اہل علم سے مکروہ جانتے تھے کنکریاں مارنا قبل طلوع فجر کے نحر کے دن اور جس نے ماریں تو نحر اس کو حلال ہوگیا۔
Top