سنن ابنِ ماجہ - قربانی کا بیان - حدیث نمبر 3176
حدیث نمبر: 2978
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اعْتَمَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَنْزِلْ نَسْخُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فِي ذَلِكَ:‏‏‏‏ بَعْدُ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ أَنْ يَقُولَ.
حج تمتع کا بیان۔
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین ؓ نے کہا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ ﷺ کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٥٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٣٦ (١٥٧١)، تفسیر البقرة ٣٣ (٤٥١٨)، سنن النسائی/الحج ٤٩ (٢٧٢٨)، مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٢٨، ٤٢٩، ٤٣٤، ٤٣٦، ٤٣٨)، سنن الدارمی/النسک ١٨ (١٨٥٥) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اور سنن ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر ؓ سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ درست ہے، اس شخص نے کہا: آپ کے والد تو اس سے منع کرتے تھے، انہوں نے کہا: اگر میرے والد ایک بات سے منع کریں اور رسول اکرم ﷺ نے اس کو کیا ہو تو میرے والد کی پیروی کی جائے گی، یا رسول اللہ ﷺ کی؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی، ابن عمر ؓ نے کہا: پس رسول اللہ ﷺ نے تو تمتع کیا۔
It was narrated from Zaid bin Thabit that a wolf bit a sheep, and they slaughtered it with a sharp-edged stone, and the Messenger of Allah ﷺ allowed them to eat it.
Top