Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (242 - 403)
Select Hadith
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
273
274
275
276
277
278
279
280
281
282
283
284
285
286
287
288
289
290
291
292
293
294
295
296
297
298
299
300
301
302
303
304
305
306
307
308
309
310
311
312
313
314
315
316
317
318
319
320
321
322
323
324
325
326
327
328
329
330
331
332
333
334
335
336
337
338
339
340
341
342
343
344
345
346
347
348
349
350
351
352
353
354
355
356
357
358
359
360
361
362
363
364
365
366
367
368
369
370
371
372
373
374
375
376
377
378
379
380
381
382
383
384
385
386
387
388
389
390
391
392
393
394
395
396
397
398
399
400
401
402
403
معارف الحدیث - کتاب الاخلاق - حدیث نمبر 466
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ » (رواه البخارى ومسلم)
جمعہ کے دن کا غسل
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر مسلمان پر حق ہے (یعنی اس کے لئے ضروری ہے) کہ ہفتہ کے سات دنوں میں سے ایک دن (یعنی جمعہ کے دن) غسل کرے اس میں اپنے سر کے بالوں کو اور سارے جسم کو اچھی طرح دھوئے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ان دونوں حدیثوں میں جمعہ کے غسل کا تاکیدی حکم ہے اور صحیحین ہی کی ایک اور حدیث میں جو حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے غسل جمعہ کے لئے واجب، کا لفظ بھی آیا ہے لیکن امت کے اکثر ائمہ اور علماء شریعت کے نزدیک اس سے اصطلاحی وجوب مراد نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد بھی وہی تاکید ہے جو حضرت ابن عمر اور حضرت ابو ہریرہ کی مندرجہ بالا حدیثوں کا مدعا ہے۔ اس مسئلہ کی پوری وضاحت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے ایک ارشاد سے ہوتی ہے جو انہوں نے بعض اہل عراق کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا۔ سنن ابی داؤد میں حضرت ابن عباسؓ کے مشہور شاگر و عکرمہؒ سے اس سوال و جواب کی پوری تفصیل اس طرح مرسی ہے کہ۔ عراق کے بعض لوگ حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں جمعہ کے دن کا غسل واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا میرے نزدیک واجب تو نہیں ہے لیکن اس میں بڑی طہارت و پاکیزگی ہے اور بڑی خیر ہے اس کے لئے جو اس دن غسل کرے اور جو (کسی وجہ سے ان دن) غسل نہ کرے تو (وہ گنہگار نہیں ہو گا کیوں کہ یہ غسل) اس پر واجب نہیں ہے۔ (اس کے بعد حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا) میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل جمعہ کے حکم کی شروعات کیسے ہوئی (واقعہ یوں ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں) مسلمان لوگ غریب اور محنت کش تھے، صوف (یعنی اونٹ، بھیڑ وغیرہ کے بالوں سے بنے ہوئے بہت موٹے کپڑے) پہنتے تھے اور محنت مزدوری میں اپنی پیٹھوں پر بوجھ لادتے تھے اور ان کی مسجد (مسجد نبوی) بھی بہت تنگ تھی اور اس کی چھت بہت نیچی تھی اور ساری مسجد بس ایک چھپر کا سائبان تھا (س کی وجہ سے اس میں انتہائی گرمی اور گھٹن رہتی تھی) پس رسول اللہ ﷺ ایک جمعہ کو جب کہ سخت گرمی کا دن تھا گھر سے مسجد تشریف لائے اور لوگوں کا یہ حال تھا کہ صوف کے موٹے موٹے کپڑوں میں ان کو پسینے چھوٹ رہے تھے اور ان سب چیزوں نے مل ملا کر مسجد کی فضا میں بد بو پیدا کر دی تھی جس سے سب کو تکلیف اور اذیت ہو رہی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے جب یہ بدبو محسوس کی تو فرمایا کہ:۔ « يَأَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمَ فَاغْتَسِلُوا، وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ » اے لوگو جب جمعہ کا یہ دن ہوا کرے تو تم لوگ غسل کیا کرو اور جو اچھا خوشبودار تیل اور جو بہتر خوشبو جس کو دستیاب ہو وہ لگا لیا کرے۔ (حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں) اس کے بعد خدا کے فضل سے فقر و فاقہ کا وہ دور ختم ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خوشحالی اور وسعت نصیب فرمائی، پھر صوف کے وہ کپڑے بھی نہیں رہے جن سے بدبو پیدا ہوتی تھی اور وہ محنت و مشقت بھی نہیں رہی اور مسجد کی وہ تنگی بھی ختم ہو گئی اور اس کو وسیع کر لیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جمعہ کے دن لوگوں کے پسینہ وغیرہ سے جو بدبو مسجد کی فضا میں پیدا ہو جاتی تھی وہ بات نہیں رہی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اس خاص حالت کی وجہ سے جس کی ان کے اس بیان میں تفصیل کی گئی ہے، غسل جمعہ مسلمانوں کےلئے ضروری قرار دیا گیا تھا، اس کے بعد جب وہ حالت نہیں رہی تو اس حکم کا وہ درجہ تو نہیں رہا، لیکن بہرحال اس میں پاکیزگی ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اب بھی اس میں خیر اور ثواب ہے۔ یعنی اب وہ مسنون اور مستحب ہے، اور سمرہ بن جندب ؓ کی مندرجہ ذیل حدیث میں غسل جمعہ کی یہی حیثیت صریحاً مذکور ہے۔
Top