Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (969 - 1049)
Select Hadith
969
970
971
972
973
974
975
976
977
978
979
980
981
982
983
984
985
986
987
988
989
990
991
992
993
994
995
996
997
998
999
1000
1001
1002
1003
1004
1005
1006
1007
1008
1009
1010
1011
1012
1013
1014
1015
1016
1017
1018
1019
1020
1021
1022
1023
1024
1025
1026
1027
1028
1029
1030
1031
1032
1033
1034
1035
1036
1037
1038
1039
1040
1041
1042
1043
1044
1045
1046
1047
1048
1049
معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 1997
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي مَرَضِهِ " ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ، أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ " (رواه مسلم)
وفات اور مرض وفات
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض میں (مجھ سے) فرمایا کہ اپنے والد ابو بکر کو اور اپنے بھائی (عبدالرحمٰن) کو میرے پاس بلا لو تا کہ میں ایک نوشہ (وصیت نامہ کے طور پر) لکھا دوں، مجھے خطرہ ہے کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں زیادہ مستحق ہوں ..... اور اللہ اور مومنین ابو بکر کے سوا کسی کو قبول نہ کریں گے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث کا حاصل اور مفاد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے آخری مرض میں آپ ﷺ کے قلب مبارک میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لئے مجھے مبعوث فرمایا ہے اور جو کام مجھ سے لیتا رہا ہے، اپنے بعد اس کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے (جس کا عنوان خلافت نبوت سے) ابو بکر کو نامزد کر دیا جائے اور اس بارے میں وصیت لکھا دی جائے، چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ اپنے والد ابو بکر اور اپنے بھائی عبدالرحمٰن کو میرے پاس بلا دو مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی دوسرا تمنا کرنے لگے اور کوئی تیسرا کہنے والا کہنے لگے کہ میں اس کا زیادہ مستحق ہوں اور اس خدمت اور ذمہ داری کو میں بہتر طریقہ سے انجام دے سکتا ہوں اور اس سے اختلاف پیدا ہونے کا خطرہ ہے، اس خطرہ سے امت کی حفاظت کے لئے میں چاہتا ہوں کہ ابو بکر کے بارے میں وصیت نامہ لکھا دوں، لیکن پھر آپ ﷺ نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی، آپ کو اطمینان ہو گیا کہ ایسا ہی ہو گا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے خود مومنین یہی فیصلہ کریں گے، چنانچہ آپ ﷺ نے خود ہی حضرت صدیقہؓ سے فرمایا دیا کہ "يابى الله والمؤمنون الا ابا بكر" (اللہ تعالیٰ اور مومنین ابو بکرؓ کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے) .... صحیح بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضور کے مرض وفات کے پہلے دن کا ہے، (خلافت نبوت کی حقیقت کیا ہے؟ اس بارے میں ان شاء اللہ آگے درج ہونے والی ایک حدیث کی تشریح میں عرض کیا جائے گا۔
Top