مکاتب کی محنت مزورری کا بیان
عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا جو شخص اپنے لئے اور اپنے بیٹوں کو مکاتب کرے اور پھر مرجائے تو اس کے بیٹے بدل کتابت کے ادا کرنے میں محنت مزدوری کریں گے یا غلام رہیں گے انہوں نے کہا سعی کریں گے اپنے باپ کی کتابت میں اور ان کے باپ کے مرجانے کی وجہ سے بدل کتابت میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اگر مکاتب کے بیٹے کمسن ہوں محنت مزدوری نہ کرسکیں تو ان کے بڑے ہونے کا انتظار نہ کیا جائے گا اور اپنے باپ کے مولیٰ کے غلام ہوجائیں گے مگر جس صورت میں مکاتب اس قدر مال چھوڑ جائے جو ان کے بلوغ تک کی قسطوں کو کافی ہو اس صورت میں بلوغ تک انتظار کیا جائے گا بعد بلوغ کے اگر بدل کتابت کو ادا کردیں تو آزاد ہوجائیں گے اور اگر عاجز ہوجائیں تو غلام ہوجائیں گے۔ کہا مالک نے اگر مکاتب مرجائے اور اس قدر مال چھوڑ جائے جو بدل کتابت کو مکتفی نہ ہو اور اپنی اولاد اور ام ولد کو جو کتابت میں داخل ہو چھوڑ جائے پھر ام ولد یہ چاہے وہ مال لے کر اولاد کے اور اپنے آزاد کرنے میں محنت مزدوری کرے تو اگر وہ ام ولد معتبر اور مشقت محنت پر قادر ہو تو وہ مال اس کے حوالے کیا جائے گا ورنہ وہ مال مولیٰ لے لے گا اور ام ولد اور مکاتب کی اولاد غلام ہوجائیں گے مولیٰ کے۔ کہا مالک نے اگر چند غلام ایک ہی وقت میں مکاتب کئے جائیں اور ان میں آپس میں کوئی قرابت نہ ہو پھر بعض ان میں سے عاجز ہوجائیں اور بعض محنت مزدوری کر کے بدل کتابت ادا کریں تو سب آزاد ہوجائیں گے پھر جن لوگوں نے محنت مزدوری کی ہے وہ ان لوگوں سے عاجز ہوگئے تھے ان کا حصہ پھیر لیں گے۔