مشکوٰۃ المصابیح - آرزو اور حرص کا بیان - حدیث نمبر 5135
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُکَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ قُلْتَ فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ کَذَلِکَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ
شہادت کا بیان
ابوقتادہ انصاری سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر میں قتل کیا جاؤں اللہ کی راہ میں جس حال میں کہ میں صبر کرنے والا ہوں مخلص ہوں منہ سامنے رکھنے والا ہوں نہ پیٹھ موڑنے والا ہوں، کیا بخش دے گا اللہ گناہ میرے؟ فرمایا آپ ﷺ نے ہاں، جب وہ شخص واپس لوٹا، آپ ﷺ نے اس کو بلایا یا بلانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کیا کہا تو نے؟ اس نے اپنی بات کو دہرادیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں مگر قرض، ایسا ہی کہا مجھ سے جبرائیل نے۔
Top