مؤطا امام مالک - کتاب السہو - 206
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَائَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ حَتَّی لَا يَدْرِيَ کَمْ صَلَّی فَإِذَا وَجَدَ ذَلِکَ أَحَدُکُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَنْسَی أَوْ أُنَسَّی لِأَسُنَّ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ إِنِّي أَهِمُ فِي صَلَاتِي فَيَكْثُرُ ذَلِكَ عَلَيَّ فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ امْضِ فِي صَلَاتِكَ فَإِنَّهُ لَنْ يَذْهَبَ عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُولُ مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک تم میں سے جب کوئی کھڑا ہوتا ہے نماز کو تو آتا ہے شیطان اس کے پاس پھر بھلا دیتا ہے اس کو یہاں تک کہ اس کو یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں تو جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہو تو وہ سجدے کرے بیٹھے بیٹھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میں بھولتا ہوں یا بھلایا جاتا ہوں تاکہ اپنی امت کے لئے ایک راہ پیدا کروں۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق سے پوچھا کہ مجھے نماز میں وہم ہوتا ہے اور بہت وہم ہوتا ہے تو قاسم نے کہا کہ تو نماز اپنی پڑھے جا اور وہم کی طرف مت خیال کر اس لئے کہ تجھے وہم کبھی نہ چھوڑے گا جب تک تو نماز سے فارغ نہ ہو اور دل میں یہ خیال رہے کہ میں نے پوری نماز پڑھی۔
Top