سنن النسائی - جنائز کے متعلق احادیث - حدیث نمبر 307
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ کَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطٍ لَهُ بِالْقُفِّ وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ الثَّمَرِ وَالنَّخْلُ قَدْ ذُلِّلَتْ فَهِيَ مُطَوَّقَةٌ بِثَمَرِهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَأَعْجَبَهُ مَا رَأَی مِنْ ثَمَرِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي کَمْ صَلَّی فَقَالَ لَقَدْ أَصَابَتْنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ فَجَائَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَذَکَرَ لَهُ ذَلِکَ وَقَالَ هُوَ صَدَقَةٌ فَاجْعَلْهُ فِي سُبُلِ الْخَيْرِ فَبَاعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِخَمْسِينَ أَلْفًا فَسُمِّيَ ذَلِکَ الْمَالُ الْخَمْسِينَ
نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار میں سے نماز پڑھ رہا تھا اپنے باغ میں اور وہ باغ قف میں تھا جو نام ہے ایک وادی کا جو مدینہ کی وادیوں میں سے ہے ایسے موسم میں کہ کھجور پک کر لٹک رہی تھی گویا پھلوں کے طوق شاکوں کے گلوں میں پڑے تھے تو اس نے نماز میں اس طرف دیکھا اور نہایت پسند کیا پھلوں کو پھر جب خیال کیا نماز کا تو بھول گیا کتنی رکعتیں پڑھیں تو کہا کہ مجھے اس مال میں آزمائش ہوئی اللہ جل جلالہ کی پس آیا حضرت عثمان کے پاس اور وہ ان دنوں خلیفہ تھے رسول اللہ ﷺ کے اور بیان کیا ان سے یہ قصہ پھر کہا کہ وہ صدقہ ہے تو صرف کرو اس کو نیک راہوں میں پس بیچا اس کو حضرت عثمان نے پچاس ہزار کا اور اس مال کا نام ہوگیا پچاس ہزارہ۔
Top