Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1031 - 1131)
Select Hadith
1031
1032
1033
1034
1035
1036
1037
1038
1039
1040
1041
1042
1043
1044
1045
1046
1047
1048
1049
1050
1051
1052
1053
1054
1055
1056
1057
1058
1059
1060
1061
1062
1063
1064
1065
1066
1067
1068
1069
1070
1071
1072
1073
1074
1075
1076
1077
1078
1079
1080
1081
1082
1083
1084
1085
1086
1087
1088
1089
1090
1091
1092
1093
1094
1095
1096
1097
1098
1099
1100
1101
1102
1103
1104
1105
1106
1107
1108
1109
1110
1111
1112
1113
1114
1115
1116
1117
1118
1119
1120
1121
1122
1123
1124
1125
1126
1127
1128
1129
1130
1131
مؤطا امام مالک - کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں - حدیث نمبر 1259
بَاب بَيْعِ الْمُرَابَحَةِ حَدَّثَنِي يَحْيَى قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الْبَزِّ يَشْتَرِيهِ الرَّجُلُ بِبَلَدٍ ثُمَّ يَقْدَمُ بِهِ بَلَدًا آخَرَ فَيَبِيعُهُ مُرَابَحَةً إِنَّهُ لَا يَحْسِبُ فِيهِ أَجْرَ السَّمَاسِرَةِ وَلَا أَجْرَ الطَّيِّ وَلَا الشَّدِّ وَلَا النَّفَقَةَ وَلَا كِرَاءَ بَيْتٍ فَأَمَّا كِرَاءُ الْبَزِّ فِي حُمْلَانِهِ فَإِنَّهُ يُحْسَبُ فِي أَصْلِ الثَّمَنِ وَلَا يُحْسَبُ فِيهِ رِبْحٌ إِلَّا أَنْ يُعْلِمَ الْبَائِعُ مَنْ يُسَاوِمُهُ بِذَلِكَ كُلِّهِ فَإِنْ رَبَّحُوهُ عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ بَعْدَ الْعِلْمِ بِهِ فَلَا بَأْسَ بِهِ قَالَ مَالِك فَأَمَّا الْقِصَارَةُ وَالْخِيَاطَةُ وَالصِّبَاغُ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْبَزِّ يُحْسَبُ فِيهِ الرِّبْحُ كَمَا يُحْسَبُ فِي الْبَزِّ فَإِنْ بَاعَ الْبَزَّ وَلَمْ يُبَيِّنْ شَيْئًا مِمَّا سَمَّيْتُ إِنَّهُ لَا يُحْسَبُ لَهُ فِيهِ رِبْحٌ فَإِنْ فَاتَ الْبَزُّ فَإِنَّ الْكِرَاءَ يُحْسَبُ وَلَا يُحْسَبُ عَلَيْهِ رِبْحٌ فَإِنْ لَمْ يَفُتْ الْبَزُّ فَالْبَيْعُ مَفْسُوخٌ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَتَرَاضَيَا عَلَى شَيْءٍ مِمَّا يَجُوزُ بَيْنَهُمَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْمَتَاعَ بِالذَّهَبِ أَوْ بِالْوَرِقِ وَالصَّرْفُ يَوْمَ اشْتَرَاهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ بِدِينَارٍ فَيَقْدَمُ بِهِ بَلَدًا فَيَبِيعُهُ مُرَابَحَةً أَوْ يَبِيعُهُ حَيْثُ اشْتَرَاهُ مُرَابَحَةً عَلَى صَرْفِ ذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي بَاعَهُ فِيهِ فَإِنَّهُ إِنْ كَانَ ابْتَاعَهُ بِدَرَاهِمَ وَبَاعَهُ بِدَنَانِيرَ أَوْ ابْتَاعَهُ بِدَنَانِيرَ وَبَاعَهُ بِدَرَاهِمَ وَكَانَ الْمَتَاعُ لَمْ يَفُتْ فَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ فَإِنْ فَاتَ الْمَتَاعُ كَانَ لِلْمُشْتَرِي بِالثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَهُ بِهِ الْبَائِعُ وَيُحْسَبُ لِلْبَائِعِ الرِّبْحُ عَلَى مَا اشْتَرَاهُ بِهِ عَلَى مَا رَبَّحَهُ الْمُبْتَاعُ قَالَ مَالِك وَإِذَا بَاعَ رَجُلٌ سِلْعَةً قَامَتْ عَلَيْهِ بِمِائَةِ دِينَارٍ لِلْعَشَرَةِ أَحَدَ عَشَرَ ثُمَّ جَاءَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّهَا قَامَتْ عَلَيْهِ بِتِسْعِينَ دِينَارًا وَقَدْ فَاتَتْ السِّلْعَةُ خُيِّرَ الْبَائِعُ فَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ قِيمَةُ سِلْعَتِهِ يَوْمَ قُبِضَتْ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْقِيمَةُ أَكْثَرَ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي وَجَبَ لَهُ بِهِ الْبَيْعُ أَوَّلَ يَوْمٍ فَلَا يَكُونُ لَهُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَذَلِكَ مِائَةُ دِينَارٍ وَعَشْرَةُ دَنَانِيرَ وَإِنْ أَحَبَّ ضُرِبَ لَهُ الرِّبْحُ عَلَى التِّسْعِينَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الَّذِي بَلَغَتْ سِلْعَتُهُ مِنْ الثَّمَنِ أَقَلَّ مِنْ الْقِيمَةِ فَيُخَيَّرُ فِي الَّذِي بَلَغَتْ سِلْعَتُهُ وَفِي رَأْسِ مَالِهِ وَرِبْحِهِ وَذَلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ دِينَارًا قَالَ مَالِك وَإِنْ بَاعَ رَجُلٌ سِلْعَةً مُرَابَحَةً فَقَالَ قَامَتْ عَلَيَّ بِمِائَةِ دِينَارٍ ثُمَّ جَاءَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّهَا قَامَتْ بِمِائَةٍ وَعِشْرِينَ دِينَارًا خُيِّرَ الْمُبْتَاعُ فَإِنْ شَاءَ أَعْطَى الْبَائِعَ قِيمَةَ السِّلْعَةِ يَوْمَ قَبَضَهَا وَإِنْ شَاءَ أَعْطَى الثَّمَنَ الَّذِي ابْتَاعَ بِهِ عَلَى حِسَابِ مَا رَبَّحَهُ بَالِغًا مَا بَلَغَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ أَقَلَّ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَ بِهِ السِّلْعَةَ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُنَقِّصَ رَبَّ السِّلْعَةِ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَهَا بِهِ لِأَنَّهُ قَدْ كَانَ رَضِيَ بِذَلِكَ وَإِنَّمَا جَاءَ رَبُّ السِّلْعَةِ يَطْلُبُ الْفَضْلَ فَلَيْسَ لِلْمُبْتَاعِ فِي هَذَا حُجَّةٌ عَلَى الْبَائِعِ بِأَنْ يَضَعَ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَ بِهِ عَلَى الْبَرْنَامَجِ
مرابحہ کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص ایک شہر سے کپڑا خرید کرکے دوسرے شہر میں لائے پھر مرابحہ کے طور پر بیچنا چاہے تو اصل لاگت میں دلالوں کی دلالی اور تہہ کرنے کی مزدوری اور باندھا بوندھی کی اجرت اور اپنا خرچ اور مکان کا کرایہ شریک نہ کرے البتہ کپڑے کی بار برداری اس میں شریک کرلے مگر اس پر نفع نہ لے مگر جب مشتری (خریدنے والا) کو اطلاع دے اور وہ اس پر بھی نفع دینے کو راضی ہوجائے تو کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے کپڑوں کی دھلائی اور نگوائی اس لاگت میں داخل ہوگی اور اس پر نفع لیا جائے گا۔ جیسے کپڑے پر نفع لیا جاتا ہے۔ اگر کپڑوں کو بیچا اور ان چیزوں کا حال بیان نہ کیا تو ان پر نفع نہ ملے گا اب اگر کپڑا تلف ہوگیا تو کرایہ باربرداری کا محسوب ہوگا مگر اس پر نفع نہ لگایا جائے گا۔ اگر کپڑا موجود ہے تو بیع کو فسخ کردیں گے جب دونوں راضی ہوجائیں کسی امر پر۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے کوئی اسباب سونے یا چاندی کے بدلے میں خریدا تو اس دن چاندی سونے کا بھاؤ یہ تھا کہ دس درہم کو ایک دینار آتا تھا پھر مشتری (خریدنے والا) اس مال کو لے کر دوسرے شہر میں آیا اور اسی شہر میں مرابحہ کے کے طور پر بیچنا چاہا اسی نرخ پر جو سونے چاندی کا اس دن تھا اگر اس نے دراہم کے بدلے میں خریدا تھا اور دیناروں کے بدلے میں بیچا یا دیناروں کے بدلے میں خریدا تھا اور درہموں کے بدلے میں بیچا اور اسباب موجود ہے۔ تلف نہیں ہوا تو خریدار کو اختیار ہوگا چاہے لے چاہے نہ لے اور اگر وہ اسباب تلف ہوگیا تو مشتری (خریدنے والا) سے وہ ثمن جس کے عوض میں بائع (بچنے والا) نے خریدا تھا نفع حساب کرکے بائع (بچنے والا) کو دلادیں گے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے اپنی چیز جو سو دینار کو پڑی تھی دس فی صدی کے نفع پر بیچی پھر معلوم ہوا کہ وہ چیز نوے دینار کو پڑی تھی اور وہ چیز مشتری (خریدنے والا) کے پاس تلف ہوگئی تو اب بائع (بچنے والا) کو اختیار ہوگا چاہے اس چیز کی قیمت بازار کی لے لے اس دم کی قیمت جس دن وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے پاس آئی تھی مگر جس صورت میں قیمت بازار کی اس ثمن سے جو اول میں ٹھہری تھی یعنی ایک سو دس دینار سے زیادہ ہو تو بائع (بچنے والا) کو ایک سو دس دینار سے زیادہ نہ ملیں گے اور اگر چاہے تو نوے دینار پر اسی حساب سے نفع لگا کر یعنی ننانوے دینار لے لے مگر جس صورت میں یہ ثمن قیمت سے کم ہو تو بائع (بچنے والا) کا اختیار ہوگا۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک چیز مرابحہ پر بیچی اور کہا سو دینار کو مجھ کو پڑی ہے پھر اس کو معلوم ہوا ایک سو بیس دینار کو پڑی تو اب خریدار کو اختیار ہوگا اگر چاہے تو بائع (بچنے والا) کا اس دن کی قیمت بازار کی جس دن وہ شئے لی ہے دے دے اور اگر چاہے تو جس ثمن پر خرید کیا ہے نفع لگا کر جہاں تک پہنچے دے مگر جس صورت میں قیمت بازار کی پہلی ثمن سے (یعنی جو سو دینار پر لگی ہے) کم ہو تو مشتری (خریدنے والا) کو یہ نہیں پہنچتا کہ اس سے کم دے اس واسطے کہ مشتری (خریدنے والا) اس پر راضی ہوچکا ہے مگر بائع (بچنے والا) نے اس سے زیادہ بیان کیا تو خریدار کو اصلی ثمن سے کم کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔
Top