مؤطا امام مالک - کتاب رضاع کے بیان میں - 1132
عَنْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ کَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ کے گھر میں ان کے پاس تھے اتنے میں حضرت عائشہ نے ایک مرد کی آواز سنی جو حضرت حفصہ کے گھر جانے کی اجازت چاہتا تھا حضرت عائشہ بولیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کون شخص ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں جانا چاہتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ فلاں شخص ہے حضرت حفصہ کے رضاعی چچا کا نام لیا جب حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر میرا رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا میرے سامنے آتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں رضاعت حرام کرتی ہے جیسے نسب حرام کرتا ہے۔
Top