مؤطا امام مالک - کتاب شرابوں کی بیان میں - 1498
عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَائِ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ فَإِنْ کَانَ يُسْکِرُ جَلَدْتُهُ فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ تَامًّا
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نکلے اور کہا میں نے فلانے کے منہ سے شراب کی بو پائی وہ کہتا ہے میں طلا (انگور کے شیرے کو اتنا پکایا جائے کہ وہ گاڑھا ہوجائے مثلا دو ثلث جل جائے ایک ثلث رہ جائے) پی اور میں پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں نشہ ہے تو اس کو حد ماروں گا حضرت عمر نے اس کو پوری حد لگائی۔
Top