مشکوٰۃ المصابیح - منسوبہ کو دیکھنے اور جن اعضا کو چھپانا واجب ہے ان کا بیان - حدیث نمبر 3135
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ جَائَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَی صَلَاةِ الْعِشَائِ فَرَأَی أَهْلَ الْمَسْجِدِ قَلِيلًا فَاضْطَجَعَ فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ النَّاسَ أَنْ يَکْثُرُوا فَأَتَاهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ مَنْ هُوَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ مَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ مَنْ شَهِدَ الْعِشَائَ فَکَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ لَيْلَةٍ وَمَنْ شَهِدَ الصُّبْحَ فَکَأَنَّمَا قَامَ لَيْلَةً
عشاء اور صبح کی جماعت کی فضلیت
عبدالر حمن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان آئے مسجد میں نماز عشاء کے لئے تو دیکھا کہ لوگ کم ہیں تو لیٹ رہے مسجد میں اخیر میں انتظار کرتے تھے لوگوں کے جمع ہونے کا پس آئے بن ابی عمرہ اور بیٹھے عثمان کے پاس پس پوچھا عثمان نے کہ کون ہو تم بیان کیا ان سے ابن ابی عمرہ نے نام اپنا پھر پوچھا عثمان نے کہ کتنا قرآن تم کو یاد ہے تو بیان کیا انہوں نے پھر فرمایا حضرت عثمان نے ان سے جو شخص حاضر ہو صبح کی جماعت میں تو گویا اس نے ساری رات عبادت کی۔
Top