مؤطا امام مالک - کتاب صلوة الخوف - 393
عَمَّنْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّتِي مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَائَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَی فَصَلَّی بِهِمْ الرَّکْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ
روایت ہے اس شخص سے جس نے نماز پڑھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں خوف کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے ہوئے نماز کو اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہے تو پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکعت پڑھی ان لوگوں کے ساتھ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے رہے اور وہ لوگ اپنی نماز پوری کر کے چلے گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے وہ آئے ان کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی پھر آپ بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے ایک رکعت پڑھی جب آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا
Top