مؤطا امام مالک - - حدیث نمبر 3105
عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذِهِ فَقَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا شَأْنُکِ قَالَتْ لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَائَ زَوْجُهَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَکَرَتْ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ تَذْکُرَ فَقَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ خُذْ مِنْهَا فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي بَيْتِ أَهْلِهَا
خلع کا بیان
حبیبہ بنت سہل ثابت بن قیس کے نکاح میں تھیں ایک روز رسول اللہ ﷺ اندھیرے میں فجر کی نماز کو نکلے حبیبہ کو دروازے پر پایا پوچھا کون بولی میں حبیبیہ بنت سہل ہوں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں کیا ہے بولی یا میں نہیں یا ثابت بن قیس نہیں جب ثابت بن قیس آئے آپ ﷺ نے ان سے کہا اس حبیبہ بنت سہل نے مجھ سے کہا جو کچھ اللہ کو منظور تھا حبیبہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے آپ ﷺ نے ثابت سے فرمایا تم اپنی چیز لے لو انہوں نے لے لی اور حبیبہ اپنے میکے میں بیٹھی رہیں۔،
Top