مؤطا امام مالک - کتاب قرض کے بیان میں - 1280
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي جَيْشٍ إِلَی الْعِرَاقِ فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَی أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ فَرَحَّبَ بِهِمَا وَسَهَّلَ ثُمَّ قَالَ لَوْ أَقْدِرُ لَکُمَا عَلَی أَمْرٍ أَنْفَعُکُمَا بِهِ لَفَعَلْتُ ثُمَّ قَالَ بَلَی هَاهُنَا مَالٌ مِنْ مَالِ اللَّهِ أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَی أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأُسْلِفُکُمَاهُ فَتَبْتَاعَانِ بِهِ مَتَاعًا مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ ثُمَّ تَبِيعَانِهِ بِالْمَدِينَةِ فَتُؤَدِّيَانِ رَأْسَ الْمَالِ إِلَی أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَيَکُونُ الرِّبْحُ لَکُمَا فَقَالَا وَدِدْنَا ذَلِکَ فَفَعَلَ وَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُمَا الْمَالَ فَلَمَّا قَدِمَا بَاعَا فَأُرْبِحَا فَلَمَّا دَفَعَا ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ قَالَ أَکُلُّ الْجَيْشِ أَسْلَفَهُ مِثْلَ مَا أَسْلَفَکُمَا قَالَا لَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ابْنَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَسْلَفَکُمَا أَدِّيَا الْمَالَ وَرِبْحَهُ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَسَکَتَ وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ مَا يَنْبَغِي لَکَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا لَوْ نَقَصَ هَذَا الْمَالُ أَوْ هَلَکَ لَضَمِنَّاهُ فَقَالَ عُمَرُ أَدِّيَاهُ فَسَکَتَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَاجَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِ عُمَرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ جَعَلْتَهُ قِرَاضًا فَقَالَ عُمَرُ قَدْ جَعَلْتُهُ قِرَاضًا فَأَخَذَ عُمَرُ رَأْسَ الْمَالِ وَنِصْفَ رِبْحِهِ وَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ نِصْفَ رِبْحِ الْمَالِ
زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت ہے کہ کہ عبداللہ بن عبیداللہ بیٹے حضرت عمر بن خطا کے ایک لشکر کے ساتھ نکلے جہاد کے واسطے عراق کی طرف جب لوٹے تو ابومویس اشعری کے پاس گئے جو حاکم تھے بصرے کے انہوں نے کہا مرحبا اور سہلا پھر کہا کاش میں تم کو کچھ نفع پہنچا سکتا تو پہنچاتا میرے پاس کچھ روپیہ ہے اللہ کا جس کو میں بھیجنا چاہتا ہوں حضرت عمر کے پاس تو میں وہ روپے تم کو قرض دے دیتا ہوں اس کا اسباب خرید لو عراق سے پھر مدینہ میں اس مال کو بیچ کر اصل روپیہ حضرت عمر کو دیدینا اور نفع تم لے لینا انہوں نے کہا ہم بھی یہ چاہتے ہیں ابوموسیٰ نے ایسا ہی کیا اور حضرت عمر کو لکھ بھیجا کہ ان دونوں سے اصل روپیہ وصول کرلیجئے گا جب دونوں مدینہ کو آئے انہوں نے مال بیچا اور نفع حاصل کیا پھر اصل مال لے کر حضرت عمر کے پاس گئے حضرت عمر نے پوچھا کی ابومویس نے لشکر کے سب لوگوں کو اتنا اتنا روپیہ قرض دیا تھا انہوں نے کہا نہیں حضرت عمر نے کہا پھر تم کو امیرالمومنین کا بیٹا سمجھ کر یہ روپیہ دیا ہوگا اصل روپیہ اور نفع دونوں دے دو عبداللہ تو چپ ہو رہے اور عبیداللہ نے کہا اے امیر المومنین تم کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اگر مال تلف ہوتا یا نقصان ہوتا تو ہم ضمان دیتے حضرت عمرنے کہا نہیں دے دو عبداللہ چپ ہو رہے عبیداللہ نے پھر جواب دیا اتنے میں ایک شخص حضرت عمر کے مصاحبوں میں سے بولا اے امیر المومنین تم اس کو مضاربت کردو تو بہتر ہے حضرت عمر نے کہا میں نے کیا پھر حضرت نے اصل مال اور نصف نفع لیا اور عبداللہ اور عبیداللہ نے آدھا نفع لیا۔
Top