مؤطا امام مالک - کتاب قرض کے بیان میں - حدیث نمبر 9682
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَائً مُتَّکِئًا عَلَی رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَی عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا قِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ لِي هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
عیسی بن مریم (علیہ السلام) اور دجال کا بیان
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مجھ کو خواب میں ایک رات معلوم ہوا کہ کعبہ کے پاس ہوں تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ جیسے کہ تو نے بہت اچھے گندمی رنگ کے آدمی دیکھے ہوں اس کے کندھوں تک بال ہیں جیسے کہ تو نے بہت اچھے کندھوں تک بال دیکھے ہوں سو اس نے مرد نے اس بال میں کنگھی کی ہے تو ان سے پانی ٹپکتا ہے دو آدمیوں پر تکیہ لگائے یوں فرمایا کہ دو آمیوں کے کندھو ؓ پر تکیہ لگائے وہی شخص بیت اللہ کا طواف کرتا ہے سو میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے تو کسی نے مجھ سے کہا یہ کہ مسیح ہے مریم کا بیٹا پھر میں نے یکایک ایک اور شخص دیکھا نہایت گھنگریالے بال والا دائیں انکھ کا کانا اس کی کافی آنکھ ایسی تھی جیسے پھولا ہوا انگور سو میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے کسی نے مجھ سے کہا یہ مسیح دجال ہے۔
Top