مؤطا امام مالک - کتاب قسامت کے بیان میں - 1455
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ کُبَرَائِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَی خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرِ بِئْرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَی يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ فَأَقْبَلَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی قَوْمِهِ فَذَکَرَ لَهُمْ ذَلِکَ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَکْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَکَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي کَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَبِّرْ کَبِّرْ يُرِيدُ السِّنَّ فَتَکَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَکَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَکُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ فَکَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ فَکَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِکُمْ فَقَالُوا لَا قَالَ أَفَتَحْلِفُ لَکُمْ يَهُودُ قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّی أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمْ الدَّارَ قَالَ سَهْلٌ لَقَدْ رَکَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَائُ قَالَ مَالِک الْفَقِيرُ هُوَ الْبِئْرُ
سہل بن ابی حثمہ کو خبر دی کچھ لوگوں نے جو اس کی قوم کے معزز تھے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ فقر اور افلاس کی وجہ سے خبیر کو گئے محیصہ کے پاس ایک شخص آیا اور بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل کو کسی نے قتل کر کے کنوئیں میں یا چشمے میں ڈال دیا ہے محیصہ یہ سن کر خیبر کے یہودیوں کے پاس آئے اور کہا قسم اللہ کی تم نے اس کو قتل کیا ہے یہودیوں نے کہا قسم اللہ کی ہم نے قتل نہیں کیا اس کو، پھر محیصہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا بعد اس کے محیصہ اور ان کے بھائی حویصہ جو محیصہ سے بڑے تھے اور عبدالرحمن بن سہل (جو عبداللہ بن سہل مقتول کے بھائی تھے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے محیصہ نے چاہا کہ میں بات کروں کیونکہ وہی خبیر کو گئے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بزرگی کی رعایت کر۔ حویصہ نے پہلے بیان کیا پھر محیصہ نے بیان کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو یہودی تمہارے قتل کی دیت دیں یا جنگ کریں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں کو اس بارے میں لکھا انہوں نے جواب میں لکھا کہ قسم اللہ کی ہم نے اس کو قتل نہیں کیا تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حویصہ اور محیصہ اور عبدالرحمن (رض) کہا تم قسم کھاؤ کہ یہودیوں نے اس کو مارا ہے تو دیت کے حقدار ہو گے انہوں نے کہا ہم قسم نہ کھائیں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اچھا اگر یہودی قسم کھالیں کہ ہم نے نہیں مارا انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ مسلمان نہیں ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاس سے دیت ادا کی سہل کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پاس سو اونٹ بھیجے ان کے گھروں پر ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔
Top