مشکوٰۃ المصابیح - کسب اور طلب حلال کا بیان - حدیث نمبر 5205
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ قَالَ وَکَانَ جَلِيسًا لَهُمْ وَکَانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ قَالَ فَغَدَا عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ حَمَّرَهُمَا قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ هَذَا أَحْسَنُ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيَّ الْبَارِحَةَ جَارِيَتَهَا نُخَيْلَةَ فَأَقْسَمَتْ عَلَيَّ لَأَصْبُغَنَّ وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ کَانَ يَصْبُغُ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي صَبْغِ الشَّعَرِ بِالسَّوَادِ لَمْ أَسْمَعْ فِي ذَلِکَ شَيْئًا مَعْلُومًا وَغَيْرُ ذَلِکَ مِنْ الصِّبْغِ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ وَتَرْکُ الصَّبْغِ کُلِّهِ وَاسِعٌ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَی النَّاسِ فِيهِ ضِيقٌ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصْبُغْ وَلَوْ صَبَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَرْسَلَتْ بِذَلِکَ عَائِشَةُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ
بالوں کے رنگنے کے بیان میں
ابو سلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن اسود ان کا ہم صحبت تھا اور اس کے سر اور داڑھی کے بال سب سفید تھے ایک روز صبح کو آیا اپنے بالوں پر سرخ خضاب لگا کر تو لوگوں نے کہا یہ اچھا ہے وہ بولا میری ماں حضرت عائشہ ؓ نے کہلا بھیجا نخیلہ اپنی لونڈی کے ہاتھ قسم دے کر کہ تو اپنے بالوں پر خضاب لگا اور بیان کیا کہ ابوبکر ؓ بھی خضاب لگایا کرتے تھے۔ کہا مالک نے سیاہ خضاب میں میں نے کوئی حدیث نہیں سنی اور سوائے سیاہ کے اور کوئی رنگ بہتر ہے اور خضاب نہ کرنا بہت بہتر ہے اگر اللہ چاہے اور لوگوں پر اس بارے میں کچھ تنگی نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے خضاب نہیں لگایا اگر لگایا ہوتا تو حضرت عائشہ ؓ عبدالرحمن کے پاس یہی کہلا بھیجتیں۔
Top