مؤطا امام مالک - کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - حدیث نمبر 4508
عَنْ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَلَی الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ إِبِلًا مِنْ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ وَکَانَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ أَنْ تَحْمَرَّ عَيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ فَإِنْ مَنَعْتُهُ کَرِهْتُ الْمَنْعَ وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ أَعْطَيْتُهُ مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَسْأَلُکَ مِنْهَا شَيْئًا أَبَدًا
صدقہ مکروہ ہے اس کا بیان
ابوبکر بن محمد، عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو عامل کیا بنی عبد اشہل میں سے صدقہ لینے پر جب لوٹ کر آیا تو رسول اللہ ﷺ سے صدقے کا اونٹ مانگا (اپنی اجرت کے سوا) آپ غصے ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصہ معلوم ہوا اور آپ ﷺ کے غصے کی نشانی یہ تھی کہ آنکھیں آپ ﷺ کی سرخ ہوجاتیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بعض آدمی مانگتے ہیں مجھ سے جو لائق نہیں دیتا اس کو نہ مجھ کو اگر میں نہ دوں تو مجھے بھی برا معلوم ہوتا ہے ( کیونکہ) سخاوت آپ ﷺ کی طبیعت خلقی تھی اور جو اسے دوں تو وہ چیز دیتا ہوں جو اس کو دینی درست نہیں وہ شخص بولا یا رسول اللہ اب میں کوئی چیز اس میں سے نہ مانگوں گا۔
Top