Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (4407 - 4503)
Select Hadith
4407
4408
4409
4410
4411
4412
4413
4414
4415
4416
4417
4418
4419
4420
4421
4422
4423
4424
4425
4426
4427
4428
4429
4430
4431
4432
4433
4434
4435
4436
4437
4438
4439
4440
4441
4442
4443
4444
4445
4446
4447
4448
4449
4450
4451
4452
4453
4454
4455
4456
4457
4458
4459
4460
4461
4462
4463
4464
4465
4466
4467
4468
4469
4470
4471
4472
4473
4474
4475
4476
4477
4478
4479
4480
4481
4482
4483
4484
4485
4486
4487
4488
4489
4490
4491
4492
4493
4494
4495
4496
4497
4498
4499
4500
4501
4502
4503
مشکوٰۃ المصابیح - طب اور جھاڑ پھونک کا بیان - حدیث نمبر 3757
ایک شبہ اور غلط فہمی :
سود کے بارے میں بعض لوگوں نے حضرت فاروق اعظم کے اس ارشاد کو آڑ بنا لیا جو سود کی اس خاص قسم کے بارے میں تھا جس کا مروجہ سود کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں یعنی چھ چیزوں کا باہمی بیع وشراء اور لین دین ان لوگوں نے اس ارشاد کا یہ نتیجہ نکالا کہ ربا کی حقیقت ہی مبہم رہ گئی تھی۔ اس کے متعلق علماء اور فقہاء نے جو کچھ لکھا ہے وہ صرف ان کا اپنے اجتہاد تھا لیکن جیسا کہ ابھی اوپر بتایا گیا حضرت فاروق اعظم کو ربا کی صرف اس قسم کے بارے میں تردد پیش آیا جو قرآن کے الفاظ سے ثابت نہیں تھا بلکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد کے ذریعہ اس کی حرمت کو بیان فرمایا تھا اور وہ چھ چیزوں کی آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ تھا جو سود آج کل رائج ہے اور جو ایام جاہلیت میں بھی عام تھا۔ اس سے حضرت عمر کے اس ارشاد کا دور کا تعلق بھی نہ تھا اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ زمانہ جاہلیت ہی سے اس کے معاملات رائج اور جاری تھے پھر اس ارشاد کہ ان چھ چیزوں کے سود کے بارے میں حضرت عمر کو جو اشکال پیش آیا وہ بھی اس بات میں نہیں تھا کہ انہیں ان چھ چیزوں کے لین دین میں سود کو حرام سمجھنے میں تردد تھا بلکہ اشکال صرف یہ تھا کہ یہ حکم شاید ان چھ چیزوں (یعنی سونا چاندی اور گیہوں وغیرہ) تک ہی محدود نہ ہو بلکہ اس کے حکم کا دائرہ ان چھ چیزوں کے علاوہ دیگر اشیاء تک بھی وسیع ہو اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ لوگ یہ خیال کر کے کہ آنحضرت ﷺ نے صرف چھ چیزوں کے بارے میں یہ حکم فرمایا ہے دیگر اشیاء کے لین دین میں وہی صورتیں اختیار کر کے سود میں مبتلا ہوجائیں جنہیں آپ ﷺ نے چھ چیزوں کے لئے واضح طور پر ربا کہا ہے اس تردد کے پیش نظر آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ سود کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کو بھی قطعًا چھوڑ دو جن میں سود کا شائبہ تک نہ پایا جائے لہذا یہ ستم ظریقی نہیں تو اور کیا ہے کہ حضرت عمر نے اپنے اشکال کا نتیجہ تو یہ ظاہر فرمایا کہ منصوص چیزوں میں بھی ایسے معاملات سے پرہیز کیا جائے جن میں سود کا شبہ بھی پایا جائے اور ان لوگوں نے حضرت عمر کے اس ارشاد کا تعلق اس سود کی اس مخصوص قسم سے منقطع کر کے عام سود وربا کے معاملات سے جوڑ دیا اور پھر اس پر اکتفاء نہ کیا بلکہ مزید ستم یہ کیا کہ محض اپنی نافہمی کی وجہ سے حضرت عمر کے ارشاد کی روشنی میں سرے سے سود کی حرمت ہی کو ایک مشتبہ مسئلہ قرار دیدیا۔
Top