مشکوٰۃ المصابیح - حدود کا بیان - حدیث نمبر 4595
عن أبي هريرة قال : جاء ماعز الأسلمي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إنه قد زنى فأعرض عنه ثم جاء من شقه الآخر فقال : إنه قد زنى فأعرض عنه ثم جاء من شقه الآخر فقال : يا رسول الله إنه قد زنى فأمر به في الرابعة فأخرج إلى الحرة فرجم بالحجارة فلما وجد مس الحجارة فر يشتد حتى مر برجل معه لحي جمل فضربه به وضربه الناس حتى مات . فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم أنه فرحين وجد مس الحجارة ومس الموت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هلا تركتموه . رواه الترمذي وابن ماجه وفي رواية : هلا تركتموه لعله أن يتوب الله عليه
لعنت کرنے کی برائی
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن آنحضرت ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ حضرت ابوبکر اپنے کسی غلام پر لعنت کر رہے ہیں، آپ ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور فرمایا کہ بھلا تم نے لعنت کرنے اور صدیقین کو بھی دیکھا ہے؟ (یعنی کیا تم نے کبھی بھی کوئی ایسے شخص کو دیکھا کہ جس میں بیک وقت یہ دو صفتیں یعنی لعانیت اور صدیقیت پائی جاتی ہیں حاصل یہ ہے کہ جو شخص صدیقیت کے مقام پر فائز ہو وہ لعنت کرنے والا نہیں ہوسکتا جیسا کہ یہ حدیث گزر چکی ہے کہ لا ینبغی لصدیق ان یکون لعانا، یعنی صدیق کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہو) نہیں رب کعبہ کی قسم یہ دونوں باتیں کسی ایک شخص میں ہرگز جمع نہیں ہوسکتیں، چناچہ حضرت ابوبکر ؓ نے یہ ارشاد سن کر اپنی اس تقصیر کے کفارہ کے طور پر اس دن اپنے بعض غلاموں کو آزاد کیا پھر معذرت خواہی کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آئندہ کبھی ایسا کام نہیں کروں گا۔ (یعنی کسی کو لعنت نہیں بھیجوں گا) حضرت عمران بن حطان کی روایت سے لے کے اس حدیث تک ان پانچوں روایتوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
Top