مشکوٰۃ المصابیح - مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان - حدیث نمبر 1869
وعن شداد بن أوس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت . والعاجز من أتبع نفسه هواها وتمنى على الله . رواه الترمذي وابن ماجه
بخل کے لئے وعید
امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جنت میں نہ تو مکار داخل ہوگا نہ بخیل نہ اللہ کی راہ میں کسی کو مال دے کر احسان جتانے والا۔ (ترمذی)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ یہ تینوں جنت میں ابتداء بغیر عذاب کے داخل نہیں ہوں گے بلکہ یہ اپنے اپنے جرم کی سزا پالیں گے تو عذاب کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔ بخیل سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے مال میں سے حق واجب ادا نہ کرے۔ منان کے ایک معنی تو وہی ہیں جو ترجمے میں مذکور ہیں اس کے دوسرے معنی کاٹنے والا ہیں یعنی وہ شخص جو اپنے اعزا اور رشتہ داروں سے ترک تعلقات کرے اور مسلمانوں سے محبت و مروت کا معاملہ نہ کرے۔
Top