Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 4091
وعن سعد قال : سمعت رسول الله يقول : من تصبح بسبع تمرات عجوة لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر
عجوہ کھجور کی تاثیر
اور حضرت سعید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص صبح کے وقت (کوئی اور چیز کھانے سے پہلے) سات عجوہ کھجوریں کھائے گا اس کو اس دن کوئی زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
عجوہ مدینہ کی کھجوروں میں سے ایک قسم ہے جو صیحانی سے بڑی اور مائل بہ سیاہی ہوتی ہے، یہ قسم مدینہ کی کھجوروں میں سب سے عمدہ اور اعلی ہے، کہا جاتا ہے کہ اس کھجور کا اصل درخت آنحضرت ﷺ نے لگایا تھا۔ زہر سے مراد وہی زہر ہے جو مشہور ہے (یعنی وہ چیز جس کو کھانے سے آدمی مرجاتا ہے) یا سانپ، بچھو اور ان جیسے دوسرے زہریلے جانوروں کا زہر بھی مراد ہوسکتا ہے مذکورہ خاصیت (یعنی دافع سحر زہر ہونا) اس کھجور میں حق تعالیٰ کی طرف سے پیدا کی گئی ہے جیسا کہ قدرت نے از قسم بناتات دوسری چیزوں (جڑی بوٹیوں وغیرہ) میں مختلف اقسام کی خاصیتیں رکھی ہیں اور یہ بات آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوئی ہوگئی کہ کھجور میں یہ خاصیت ہے، یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت سے اس کھجور میں یہ خاصیت ہے۔ جہاں تک سات کے عدد کی تخصیص کا سوال ہے تو اس کی وجہ شارع کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں، بلکہ اس کا علم توفیقی ہے یعنی آنحضرت ﷺ سے سماعت پر موقوف ہے کہ آپ ﷺ نے سات ہی کا عدد فرمایا اور سننے والوں نے اسی کو نقل کیا، نہ تو آنحضرت ﷺ نے اس تخصیص کی وجہ سے بیان فرمائی اور نہ سننے والوں نے دریافت کیا جیسا کہ رکعات وغیرہ کے اعداد کا مسئلہ ہے۔
Top