Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 2523
وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أنزل عليه الوحي سمع عند وجهه دوي كدوي النحل فأنل عليه يوما فمكثنا ساعة فسري عنه فاستقبل القبلة ورفع يديه وقال : اللهم زدنا ولا تنقصنا وأكرمنا ولا تهنا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علينا وأرضنا وأرض عنا . ثم قال : أنزل علي عشر آيات من أقامهن دخل الجنة ثم قرأ : ( قد أفلح المؤمنون ) حتى ختم عشر آيات . رواه أحمد والترمذي
نعمت وعزت کی دعا
حضرت عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کے مبارک منہ کی قریب شہد کی مکھی کی آواز کی مانند آواز سنی جاتی تھی چناچہ ایک دن (ہمارے سامنے) آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی ہم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے (یعنی ہم اس انتظار میں رہے کہ نزول وحی کی جو سختی آپ ﷺ پر طاری ہے وہ ختم ہوجائے) جب سختی کی وہ کیفیت آپ ﷺ سے دور ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنا منہ قبلہ کی طرف کیا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر بارگاہ الٰہی میں یوں عرض رساں ہوئے۔ دعا (اللہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولا تہنا واعطنا ولا تحرمنا واٰثرنا ولا توثر علینا وارضنا وارض عنا)۔ اے اللہ! ہماری دنیاوی اور اخروی نعمتوں یا مسلمانوں کی تعداد میں زیادتی کر اور ان نعمتوں یا مسلمانوں میں کمی نہ کر ہمیں دیا میں حاجت روائی کے ساتھ اور عقبی میں بلندی درجات کے ذریعہ معزز بنا اور ہمیں ان چیزوں سے محروم رکھ کر ذلیل نہ کر ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرما اور ہمیں محروم نہ کر! ہمیں اپنی رحمت و عنایت کے ذریعہ برگزیدہ بنا اور ہم پر غیروں اپنے لطف و کرم کے ذریعہ برگزیدہ نہ بنایا کہ ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب نہ کر ہمیں اپنی قضاء قدر پر صبر و شکر کی توفیق عطا فرما کر راضی رکھ اور تو ہی ہماری تھوڑی سی بھی عبادت وطاعت پر ہم سے راضی ہو پھر آپنے فرمایا ابھی مجھ پر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جو شخص ان پر عمل کرتا رہے وہ جنت میں نیکیوں کے ساتھ داخل ہوگا اس کے بعد آپ ﷺ نے ( قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ) 23۔ المومنون 10-1) دس آیتوں تک پڑھی۔ (احمد، ترمذی)
تشریح
آنحضرت ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کلام الٰہی کو آپ ﷺ تک پہنچاتے تھے تو صحابہ حضرت جبرائیل کی آواز کو سنتے تو تھے مگر اسے سمجھ نہیں پاتے تھے جیسا کہ شہد کی مکھی کی آواز سنی تو جاتی ہے مگر سمجھ میں نہیں آتی اسی لئے حضرت جبرائیل کی اس آواز کو حضرت عمر فاروق ؓ نے شہد کی مکھی کی آواز سے مشابہت دی۔ وہ دس آیتیں اس وقت آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی تھیں اور جن پر عمل کرنے والے کے لئے مذکورہ بالا حدیث میں آپ ﷺ نے بشارت عطا فرمائی یہ ہیں۔ آیت (قد افلح المؤمنون۔ الذین ہم فی صلوتہم خاشعون۔ والذین ہم عن الغو معرضون۔ والذین ہم للذکوۃ فاعلون۔ والذین ہم لفروجہم حافظو ن۔ الا علی ازواجہم او ماملکت ایمانہم فانہم غیر ملومین۔ فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ہم العادون۔ والذین ہم لاماناتہم وعہدہم راعون۔ والذین ہم علی صلوتہم یحافظون۔ اولئک ہم الوارثون۔ الذین یرثون الفردوس ہم فیہا خالدون)۔ بیشک ایمان والے رستگار ہوگئے (یعنی انہوں نے فلاح پائی) جو نماز میں باطنی و ظاہری طور پر عجز و نیاز کرتے ہیں اور جو بےہودہ چیزوں سے خواہ وہ کہنے کی ہوں یا کرنے کی منہ موڑتے رہتے ہیں اور جو ذکوۃ ادا کرتے ہیں اور جو حرام کاری سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا اپنی کنیزوں سے صحبت کرتے ہیں تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ہاں جو اس کے علاوہ کے طالب ہوں یعنی جو لوگ اپنی بیویوں سے اور کنیزوں کے علاوہ دوسرے افعال بد میں مبتلا ہوں۔ مثلا اغلام بازی، جلق یا متعہ وغیرہ کریں تو وہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے یعنی دائرہ حلال سے تجاوز کرنے والے اور حرام میں مبتلا ہونے والے ہیں اور جو امانتوں اور عہد و پیمان کی محافظت کرتے ہیں اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں یعنی شرائط و آداب کے ساتھ نمازیں پابندی سے ادا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو وارث ہیں کہ یہی فردوس کے مالک ہوں گے جو جنت کا اعلیٰ درجہ ہے وہ لوگ (یعنی یہ مومنین جن کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں) اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Top