Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 4433
وعن أسماء بنت عميس أن النبي صلى الله عليه وسلم سألها بم تستمشين ؟ قالت بالشبرم قال حار حار . قالت ثم استمشيت بالسنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم لو أن شيئا كان فيه الشفاء من الموت لكان في السنا . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث حسن غريب . وشطره الأول
ثناء بہترین دوا ہے
اور حضرت اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم کس چیز سے جلاب (مسہل) لیتی ہو، انہوں نے کہا شبرم سے آپ ﷺ نے فرمایا شبرم تو گرم ہے گرم۔ اسماء ؓ کہتی ہیں کہ پھر میں نے ثناء سے جلاب لیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی یعنی موت کا علاج کسی دوا میں ہوتا تو وہ ثناء ہوتی۔ (ترمذی، ابن ماجہ) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
شبرم ایک گھاس ہے جو دست آور ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ شبرم سے اس گھاس کے دانے مراد ہیں دو مسور کے برابر ہوتے ہیں اور اسہال کے لئے ان دانوں کو پانی میں جوش دے کر اس کو پیا جاتا ہے دونوں لفظ حار حار کے زبر اور راہ کی تشدید کے ساتھ ہیں، جیسا کہ مشکوٰۃ کے اکثر صحیح نسخوں اور اصل کتاب یعنی ترمذی وابن ماجہ میں نقل کیا گیا ہے، لیکن بعض حضرات نے دوسرے لفظ کو جیم کے ساتھ یعنی (جار) کو پہلے لفظ (حار) کا تابع مہمل قرار دیا ہے، جیسا کہ جب کسی لفظ کو زیادہ اہمیت و تاکید کے ساتھ بیان کرنا ہوتا ہے تو اس اصل لفظ کے بعد اس کے مناسب و ہم وزن کوئی دوسرا مہمل لفظ بول دیتے ہیں۔ جیسے پادر وادر اور پانی وانی وغیرہ، بہر صورت آنحضرت ﷺ نے اس جملہ کے ذریعہ گویا یہ واضح فرمایا کہ شبرم نہایت گرم ہے اور دست لانے کے لئے اس کو استعمال کرنا مناسب نہیں ہے چناچہ اطباء لکھتے ہیں کہ شبرم حار درجہ چار ہے اور چونکہ اس کا استعمال بہت زیادہ دست لاتا ہے اس لئے اس میں احتیاط شرط ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کے ذریعہ سناء کی فضیلت و تعریف کو بطور مبالغہ بیان فرمایا گیا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ سناء اور خاص طور پر سناء مکی (جو زیادہ بہتر ہے) بڑی عجیب و غریب دوا ہے جس کے فوائد مشہور ہیں اور اطباء اس کو اکثر امراض میں شفا کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں کسی ضرر و نقصان کا خوف نہیں ہوتا یہ باعتدال ہے اور حار درجہ ایک ہے، صفرا، سودا اور بلغم کے اسہال و تنقیہ کے لئے بہترین چیز ہے اور جرم قلب کو بہت زیادہ طاقت و قوت بخشتی ہے، نیز اس کی جملہ خاصیتوں میں سے ایک بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہ واسو اس سوداوی کے لئے فائدہ مند ہے۔
Top