Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 5403
وعن أبي سعيد الخدري قال لقيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر يعني ابن صياد في بعض طرق المدينة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم أتشهد أني رسول الله ؟ فقال هو أتشهد أني رسول الله ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم آمنت بالله وملائكته وكتبه ورسله ماذا ترى ؟ قال أرى عرشا على الماء . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ترى عرش إبليس على البحر وما ترى ؟ قال أرى صادقين وكاذبا أو كاذبين وصادقا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس عليه فدعوه . رواه مسلم .
ابن صیاد کاہن تھا
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ ان سب کی ملاقات مدینہ کے ایک راستہ میں ابن صیاد سے ہوگئی، رسول کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے جواب میں کہا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول کریم ﷺ نے ( یہ سن کر) فرمایا۔ میں اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ( اس کے بعد آپ ﷺ نے پوچھا کہ اچھا یہ بتا) تو کیا چیز دیکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں ایک تخت کو پانی پر دیکھتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ تو ابلیس کے تخت کو سمندر پر دیکھتا ہے! پھر فرمایا۔ اس کے علاوہ اور کیا دیکھتا ہے؟ ابن صیاد نے کہا کہ دو سچوں کو دیکھتا ہوں ( جو سچی خبریں لایا کرتے ہیں) اور ایک جھوٹے کو دیکھتا ہوں ( جو جھوٹی خبریں لایا کرتا ہے) یا دو جھوٹوں کو دیکھتا ہوں اور ایک سچے کو اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے ( صحابہ سے مخاطب ہو کر) فرمایا اس کے لئے صورت حال ( یعنی کہانت) کو گڈ مڈ کردیا گیا ہے، اس کو چھوڑ دو ( یعنی یہ تو ٹھیک ٹھیک بات کرنے کے بھی قابل نہیں ہے کہ اس کا کوئی جواب دیا جائے۔ ( مسلم)
تشریح
تو ابلیس کے تخت کو سمندر پر دیکھتا ہے۔ کے ذریعہ حضور ﷺ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ ابلیس پانی کے اوپر اپنا تخت بچھا کر اس پر اپنا دربار قائم کرتا ہے اور وہیں سے اپنے چیلوں اور اپنے ساتھیوں کی ٹولیوں کو دنیا میں بھی فتنہ و فساد پھیلانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے روانہ کرتا ہے اس کا ذکر کتاب کے شروع میں باب الوسوسہ میں گزر چکا ہے۔ یا دو جھوٹوں کو دیکھتا ہوں اور ایک سچے کو یہ یا تو راوی نے اپنا شک ظاہر کیا ہے کہ اس موقع پر روایت کے الفاظ اس طرح ہیں یا یہ کہ خود ابن صیاد ہی نے اس شک کے ساتھ بیان کیا ہو میں یا تو دو سچوں اور ایک جھوٹے کو دیکھتا ہوں یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو اور یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس کا معاملہ جس طرح خلط و احتمالات میں گرا ہوا تھا اور اس کے احوال جس طرح نظام و استقلال اور استقامت و یقین سے خالی تھے اس کا تقاضا ہی یہ تھا کہ اس کو کسی بھی صورت جزم و یقین حاصل نہ ہوا چناچہ وہ کبھی اس طرح دیکھتا تھا اور کبھی اس طرح۔
Top