مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان۔ - 604
لغت میں اذان کے معنی " خبر دینا " ہیں اور اصطلاح شریعت میں " چند مخصوص الفاظ کے ساتھ اوقات مخصوصہ میں نماز کا وقت آنے کی خبر دینے " کو اذان کہتے ہیں۔ اس تعریف سے وہ اذان خارج ہے جو نماز کے علاوہ دیگر امور کے لئے ہے مسنون کی گئی ہے جیسا کہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے دائیں کان میں اذان کے کلمات اور بائیں کان میں اقامت کے کلمات کہے جاتے ہیں اور اسی طرح اس آدمی کے کان میں اذان کہنا مستحب ہے جو کسی رنج میں مبتلا ہو یا اسے مرگی وغیرہ کا مرض ہو یا وہ غصے کی حالت میں ہو، یا جس کی عادتیں خراب ہوگئی ہوں خواہ وہ انسان ہو یا جانور۔ چناچہ حضرت دیلمی (رح) راوی ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ ایک دن سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غمگین دیکھ کر فرمایا کہ اے ابن ابی طالب : میں تمہیں غمگین دیکھ رہا ہوں لہٰذا تم اپنے اہل بیت میں سے کسی کو حکم دو کہ وہ تمہارے کان میں اذان کہے جس سے تمہارا غم ختم ہو جاے گا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے تھے کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد کے مطابق عمل کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات صحیح ثابت ہوئی نیز اس روایت کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک نقل کرنے والے ہر راوی نے کہا ہے کہ ہم نے اس طریقے کو آزمایا تو مجرب ثابت ہوا۔ ایسے ہی حضرت دیلمی (رح) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ " جس کی عادتیں خراب ہوگئی ہوں خواہ وہ انسان ہو یا جانور تو اس کے کان میں اذان کہو "۔ بہر حال۔ فرائض نماز کے لئے اذان کہنا سنت موکدہ ہے تاکہ لوگ نماز کے وقت مسجد میں جمع ہوئیں اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں۔ اذان کی مشروعیت کے سلسلے میں مشہور اور صحیح یہ ہے کہ اذان کی مشروعیت کی ابتداء عبداللہ بن زید انصاری (رض) اور حضرت عمر فاروق (رض) کا خواب ہے جس کی تفصیل آئندہ احادیث میں آئے گی۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اذان کا خواب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بھی دیکھا تھا۔ حضرت امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ دس صحابہ کرام کو خواب میں اذان کے کلمات کی تعلیم دی گئی تھی بلکہ کچھ حضرات نے تو کہا ہے کہ خواب دیکھنے والے چودہ صحابہ کرام ہیں۔ بعض علماء محققین کا قول یہ ہے کہ اذان کی مشروعیت خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اجتہاد کے نتیجے میں ہوئی ہے جس کی طرف شب معراج میں ایک فرشتے نے رہنمائی کی تھی چناچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شب معراج میں جب عرش پر پہنچے اور سدرۃ المنتہیٰ تک جو کبریائی حق جل مجدہ کا محل خاص ہے پہچے تو وہاں سے ایک فرشتہ نکلا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ فرشتہ کون ہے ؟ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ اس اللہ کی قسم ًجس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے تمام مخلوق سے زیادہ قریب ترین درگاہ عزت سے میں ہوں لیکن میں نے پیدائش سے لے کر آج تک اس وقت کے علاوہ اس فرشتہ کو کبھی نہیں دیکھا ہے چناچہ اس فرشتہ نے کہا " اللہ اکبر اللہ اکبر " یعنی اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔ پردے کے پیچھے سے آواز آئی کہ میرے بندہ نے سچ کہا انا اکبر انا اکبر (یعنی میں بہت بڑا ہوں میں بہت بڑا ہوں) اس کے بعد اس فرشتے نے اذان کے باقی کلمات ذکر کئے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان کے کلمات صحابہ کرام کے خواب سے بھی بہت پہلے شب معراج میں سن چکے تھے۔ چناچہ علماء نے لکھا ہے کہ اس سلسلہ میں محقق فیصلہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذان کے کلمات شب معراج میں سن تو لئے تھے لیکن ان کلمات کو نماز کے لئے اذان میں ادا کرنے کا حکم نہیں ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں بغیر اذان کے نماز ادا کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ تشریف لائے اور یہاں صحابہ کرام سے مشورہ کیا چناچہ بعض صحابہ کرام نے خواب میں ان کلمات کو سنا اس کے بعد وحی بھی آگئی کہ جو کلمات آسمان پر سنے گئے تھے اب وہ زمین پر اذان کے لئے مسنون کردیئے جائیں۔ وا اللہ اعلم۔
Top