مشکوٰۃ المصابیح - اعتکاف کا بیان - 2105
لغوی طور پر اعتکاف کے معنی ہیں ایک جگہ ٹھہرنا اور کسی مکان میں بند رہنا اور اصطلاح شریعت میں اعتکاف کا مفہوم ہے اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی کی خاطر اعتکاف کی نیت کے ساتھ کسی جماعت والی مسجد میں ٹھہرنا۔ اعتکاف کے لئے نیت اسی مسلمان کی معتبر ہے جو عاقل ہو اور جنابت اور حیض و نفاس سے پاک و صاف ہو، رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف سنت مؤ کدہ ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کے آخری عشرہ میں ہمیشہ اعتکاف فرماتے تھے درمختار میں لکھا ہے کہ سنت مؤ کدہ علی الکفایہ ہے یعنی اگر ایک شخص بھی اعتکاف کرلے تو سب کی طرف سے حکم ادا ہوجاتا ہے اور اس صورت میں اعتکاف نہ کرنے والوں پر کوئی ملامت نہیں۔ اعتکاف کے لئے زبان سے نذر ماننے سے اعتکاف واجب ہوجاتا ہے خواہ فی الحال ہو جیسے کہ کوئی کہے میں اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے اوپر اتنے دنوں کا اعتکاف لازم کرتا ہوں اور خواہ معلق ہو جیسے کوئی کہے کہ میں یہ نذر مانتا ہوں کہ اگر میرا کام ہوجائے گا تو میں اتنے دنوں کا اعتکاف کروں گا۔ گویا اعتکاف کی یہ دو قسمیں ہوئیں یعنی ایک تو سنت مؤ کدہ جو رمضان کے آخری عشرہ میں ہے اور دوسرا واجب جس کا تعلق نذر سے ہے ان دو قسموں کے علاوہ تیسری قسم مستحب ہے یعنی رمضان کے آخری عشرہ کے سوا اور کسی زمانہ میں خواہ رمضان کا پہلا دوسرا عشرہ ہو یا اور کوئی مہینہ ہو اعتکاف کرنا مستحب ہے۔ اعتکاف مستحب کے لئے اکثر زیادہ سے زیادہ مدت کوئی مقدار متعین نہیں ہے اگر کوئی شخص تمام عمر کے اعتکاف کی بھی نیت کرلے تو جائز ہے البتہ اقل (کم سے کم) مدت کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں امام محمد کے نزدیک اعتکاف مستحب کے لئے کم سے کم مدت کی بھی کوئی مقدار متعین نہیں ہے دن و رات کے کسی بھی حصہ میں ایک منٹ بلکہ اس سے بھی کم مدت کے لئے اعتکاف کی نیت کی جاسکتی ہے امام اعظم ابوحنیفہ کی ظاہر روایت بھی یہی ہے اور حنفیہ کے یہاں اسی قول پر فتویٰ ہے لہٰذا ہر مسلمان کے لئے مناسب ہے کہ وہ جب بھی مسجد میں داخل ہو خواہ نماز کے لئے یا اور کسی مقصد کے لئے تو اس طرح اعتکاف کی نیت کرلے۔ کہ میں اعتکاف کی نیت کرتا ہوں جب تک کہ مسجد میں ہوں۔ اسی طرح بلا کسی مشقت و محنت کے دن میں کئی مرتبہ اعتکاف کی سعادت و فضیلت حاصل ہوجایا کرے گی حضرت امام ابویوسف کے نزدیک اقل مدت دن کا اکثر حصہ یعنی نصف دن سے زیادہ ہے نیز حضرت امام اعطم کا ایک اور قول یہ ہے کہ اعتکاف کی اقل مدت ایک دن ہے یہ قول حضرت امام اعظم کی مذکورہ بالا ظاہر روایت کے علاوہ ہے جس پر فتویٰ نہیں ہے۔
Top