Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 2787
وعن جابر بن عبد الله : أن أعرابيا بايع رسول الله صلى الله عليه و سلم فأصاب الأعرابي وعك بالمدينة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا محمد أقلني بيعتي فأبى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم جاءه فقال : أقلني بيعتي فأبى ثم جاءه فقال : أقلني بيعتي فأبى فخرج الأعرابي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما المدينة كالكير تنفي خبثها وتنصع طيبها
مدینہ کی خصوصیت
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں رہنے کی آپ ﷺ سے بیعت کی، کچھ ہی دنوں کے بعد جب وہ مدینہ کے شدید بخار میں مبتلا ہوا اور اس صورت میں اس سے مدینہ رہنا گوارا نہ ہوا اور وہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ مگر آپ ﷺ نے انکار کردیا، وہ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے اس مرتبہ بھی انکار کردیا، اس کے بعد وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے پھر انکار کردیا، چناچہ وہ آپ ﷺ کی اجازت کے بغیر ہی مدینہ سے بھاگ گیا، جب آپ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی مانند ہے جو اپنے میل کو دور کردیتا ہے اور اپنے اچھے آدمی کو نکھار دیتا ہے یعنی برے آدمی کو نکال باہر کرتا ہے اور پاک باطن و مخلص آدمی کو پلید ذہن اور بدطینت آدمی سے الگ کردیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے اس کی بیعت کو فسخ کرنے سے اس لئے انکار فرمایا کہ جس طرح اسلام کی بیعت کو فسخ کردینا جائز نہیں تھا اسی طرح آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کی بیعت کو بھی فسخ کردینے کی اجازت نہیں تھی۔ علماء لکھتے ہیں کہ مدینہ کی اس خاصیت یعنی برے آدمیوں کو نکال دینے اور اچھے آدمیوں کو خالص کردینے کا تعلق یا تو آنحضرت ﷺ ہی کے زمانہ کے ساتھ خاص تھا یا پھر آخر زمانہ میں قیامت کے قریب اس مقدس شہر کی یہ خاصیت ظاہر ہوگی کہ جب دجال نمودار ہوگا تو مدینہ کو تین مرتبہ ہلایا اور جھنجھوڑا جائے گا چناچہ اس وقت مدینہ میں جتنے بھی برے لوگ ہوں گے (خواہ وہ کافر ہوں یا منافق) اس شہر سے نکل پڑیں گے اور دجال کے پاس پہنچ جائیں گے، نیز یہ احتمال بھی ہے کہ اس خاصیت کا تعلق ہر زمانہ کے ساتھ ہو۔
Top