Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 5855
وعن أبي هريرة قال جاء ذئب إلى راعي غنم فأخذ منها شاة فطلبه الراعي حتى انتزعها منه قال فصعد الذئب على تل فأقعى واستذفر فقال عمدت إلى رزق رزقنيه الله عز و جل أخذته ثم انتزعته مني فقال الرجل تالله إن رأيت كاليوم ذئبا يتكلم فقال الذئب أعجب من هذا رجل في النخلات بين الحرتين يخبركم بما مضى وبما هو كائن بعدكم وكان الرجل يهوديا فجاء الرجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأسلم وخبره فصدقه النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم إنها أمارة من أمارات بين يدي الساعة قد أوشك الرجل أن يخرج فلا يرجع حتى تحدثه نعلاه وسوطه ما أحدث أهله بعده . رواه في شرح السنة
بھیڑیے کے بولنے کا معجزہ
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک بھیڑیا ( بکریوں) کے ایک ریوڑ میں، جہاں اس کا چرواہا بھی موجود تھا، گھس آیا اور اس میں سے ایک بکری اٹھا کر بھاگا، چرواہے نے اس کا تعاقب کیا اور آخر کار بکری کو اس بھیڑئیے سے چھڑا لیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ پھر وہ بھیڑیا ایک ٹیلہ پر چڑھا اور وہاں اس طرح بیٹھ گیا جیسے کوئی بھیڑیا سرین کے بل بیٹھتا ہے اور دونوں پاؤں کھڑے کر کے اپنی دم ان دونوں پاؤں کے درمیان داخل کرلی اور چرواہے کو ( زور سے) مخاطب کر کے بولا میں نے اپنا وہ رزق لینا چاہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے لیکن تم نے میرا رزق مجھ سے چھین لیا ہے۔ چرواہے نے ( جو ایک بھیڑیا کو بولتے دیکھا تو ششدرہ رہ گیا، چناچہ اس نے بھڑئیے ہی کو مخاطب کر کے کہا اللہ کی قسم، جیسا عجوبہ، میں نے آج دیکھا ہے ایسا تو کبھی نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا ( آدمی کی طرح) باتیں کر رہا ہے۔ بھیڑیا پھر بولا اس سے بڑا عجوبہ تو اس شخص ( محمد ﷺ کا حال ہے، جو کھجوروں کے درختوں کے پیچھے دو سنگستانوں کے درمیان ( یعنی مدینہ میں) رہتا ہے، وہ شخص تمہیں وہ باتیں بتادے گا جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں اور وہ باتیں بھی بتادے گا جو تمہارے بعد وقوع پذیر ہونے والی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ آدمی ( چرواہا) جو ایک یہودی تھا بھیڑئیے کی زبانی سن کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے سامنے ( بھیڑیے کے بولنے کا) قصہ بیان کرکے مسلمان ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے بیان کردہ قصہ کو درست تسلیم کیا اور پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس طرح کی باتیں قیامت سے پہلے کی ( یعنی قرب قیامت کی) علامتیں ہیں وہ وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ آدمی ( اپنے گھر سے) باہر جائے گا اور جب لوٹ کر ( گھر میں) آئے گا تو اس کے جوتے اور اس کا کو ڑما ( وغیرہ) اس کو وہ تمام باتیں بتادے گا، جو اس کے گھر والوں نے اس کی عدم موجودگی میں کی ہوں گی۔ ع ( شرح السنۃ)
تشریح
علامہ تور پشتی (رح) نے لکھا ہے کہ اس چرواہے کا نام جو بعد میں مسلمان ہو کر شرف صحابیت سے سرفراز ہوئے اہبار بن اوس خزاعی تھا، اس واقعہ کی نسبت سے ان کو مکلم الذئب کہا جانے لگا تھا۔۔۔ لیکن روایت کے یہ الفاظ کہ جو ایک یہودی تھا اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ اہبار ابن اوس خزاعی تھے کیونکہ قبیلہ خزاعہ کے لوگ یہودی نہیں تھے، ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اہبار اوس کا تعلق قبیلہ خزاعہ ہی سے تھا اور انہوں نے اپنے قبیلہ والوں کے برخلاف یہودی مذہب اختیار کرلیا تھا اس صورت میں تورپشتی کے قول پر کوئی اعتراض وار نہیں ہوگا۔ کھجور کے درختوں کے پیچھے دو سنگستانوں کے درمیان سے مراد مدینہ شہر تھا اور دو سنگستانوں دراصل حرتین کا ترجمہ ہے، حرتین تثنیہ ہے حرہ کا، جس کے معنی کالی پتھریلی زمین کے ہیں مدینہ شہر ایک ایسے میدان میں آباد ہے جو اپنی مشرقی اور مغربی سمتوں سے دو حروں ( یعنی دو سنگستانوں کے درمیان واقع ہے۔ پہلے گزرنے والی باتوں سے پچھلی امتوں کے احوال انجام مراد ہیں اور بعد میں وقوع پذیر ہونے والی باتیں بتائے سے مراد آنے والے زمانوں میں جو اہم واقعات و حوادث رونما ہوں گے ان کی پیش خبری بھی ہے اور عقبی وآخرت کے حقائق و کوائف بتانا بھی۔
Top