Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 6081
حضرت سعد بن ابی وقاص
حضرت سعد کی کنیت ابواسحاق ہے اور زہری وقرشی کرکے مشہور ہیں۔ قدیم الاسلام ہیں یعنی آغاز دعوت اسلام ہی میں سترہ سال کی عمر میں مشرف با اسلام ہوگئے تھے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں تیسرا مسلمان ہوں مجھ سے پہلے صرف دو آدمی اسلام لائے تھے اور اللہ کی راہ میں اسلام کی طرف سے سب سے پہلے تیر چلانے والا میں ہوں۔ حضرت سعد آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک ہوئے ہیں اور مستجاب الدعوات مانے جاتے تھے۔ ان کی حیثیت عوام و خواص میں اس قد ر مشہور تھی کہ لوگ ان کی بدعا سے ڈرتے تھے اور ان کی نیک دعاؤں کے طلب گار رہا کرتے تھے۔ دراصل ان کو یہ مقام اس بنا پر حاصل ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی تھی اے اللہ! سعد کی دعائیں قبول فرما۔ حضرت زبیر کے علاوہ صرف حضرت سعد ہی وہ خوش نصیب ہستی ہیں جن کے لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے ماں باپ کو جمع کیا، یعنی الگ الگ موقعوں پر ان دونوں کو مخاطب کرکے فرمایا تھا میرے ماں باپ تم پر صدقے، یہ عظیم اعزاز ان دونوں کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت سعد کا رنگ گندمی تھا اور ان کے بدن پر بہت بال تھے ٥٥ ھ میں اس محل میں ان کا انتقال ہوا جو انہوں نے مدینہ شہر کے قریب وادی عتیق میں بنوایا تھا، جنازہ مدینہ منورہ لایا گیا اور اس وقت کے حاکم مدینہ ابن الحکم نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی اس وقت حضرت سعد کی عمر کچھ اوپر ستر سال کی تھی اور عشرہ مبشرہ میں سب کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ حضرت عمر نے ان کو کوفہ کا حکم مقرر کیا تھا، پھر بعد میں حضرت عثمان نے بھی اس منصب پر ان کو دوبارہ کوفہ بھیجا تھا۔ صحابہ اور تابعین کی ایک بڑی جماعت کو ان سے احادیث کی سماعت اور روایت کا شرف حاصل ہے۔
Top