Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 3945
وعن عائشة قالت في بيعة النساء : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يمتحنهن بهذه الآية : ( يا أيها النبي صلى الله عليه و سلم إذا جاءك المؤمنات يبايعنك ) فمن أقرت بهذا الشرط منهن قال لها : قد بايعتك كلاما يكلمها به والله ما مست يده يد امرأة قط في المبايعة
عورتوں کی بیعت
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عورتوں کی بیعت کے بارے میں فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ ان عورتوں کو ( جو مکہ سے آتیں اور قبولیت اسلام کا اظہار کرتیں) اس آیت کریمہ کی روشنی میں پرکھتے تھے آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَا ءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ ) 60۔ الممتحنہ 12) اے نبی! جب مؤمن عورتیں آپ ﷺ کے پاس بیعت کے لئے حاضر ہوں الخ۔ چناچہ ان میں سے جو عورت اس آیت میں مذکورہ شرائط کو ماننے کا اقرار کرتی آپ اس سے فرماتے کہ میں نے تم کو بیعت کیا۔ درآنحالیکہ آپ گفتگو کرتے اور عورت سے یہ بات فرماتے مگر اللہ کی قسم! کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی عورت کو بیعت کیا ہو اور اس کے ہاتھ کو آپ ﷺ کے ہاتھ نے چھوا ہو۔ ( بخاری و مسلم)
تشریح
اس آیت کریمہ کی روشنی میں پرکھتے تھے۔ یعنی اس آیت میں عورتوں کے لئے جن احکام کی پابندی کو بیعت کی شرط قرار دیا گیا ہے آپ ﷺ ان عورتوں سے ان احکام پر عمل کرنے کا عہد کرتے جب وہ عہد و اقرار کرتیں تو آپ ﷺ ان کو بیعت کرتے چناچہ اس پوری آیت کا مفہوم و مضمون یہ ہے کہ مسلمان عورتیں ان شرائط پر ( یعنی ان احکام پر عمل کرنے کی) بیعت کریں کہ وہ ( عورتیں) کسی ذات اور کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں مانیں گیں ( یعنی ہر طرح کے شرک سے کلیۃ اجتناب کریں گیں) چوری نہیں کریں گیں، زنا کی مرتکب نہیں ہونگی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گیں ( جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ بیٹیوں کو مار ڈالا جاتا تھا) کسی پر تہمت نہیں لگائیں گیں اور عصیان نہیں کریں گیں ( یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے رو گردانی نہیں کریں گیں، اس اعتبار سے یہ آیت کریمہ کی تفسیر و وضاحت ہے جو پہلی حدیث میں گذر چکی ہے یعنی آیت ( يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَا ءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ ) 60۔ الممتحنہ 12) حدیث کے آخری جزء کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ بیعت، ہاتھ میں ہاتھ لے کر یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کرلی جاتی ہے لیکن آنحضرت ﷺ عورتوں سے زبانی بیعت لیتے تھے یعنی ان سے یہ فرماتے تھے کہ میں نے تمہاری بیعت قبول کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض مشائخ عورتوں سے بیعت لینے کا جو یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ مرید کرتے وقت کسی برتن میں رکھے ہوئے پانی میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں اور وہ عورت بھی اپنا ہاتھ اس پانی میں ڈالتی ہے، یا بعض حضرات یہ کرتے ہیں کہ کسی کپڑے کا ایک آنچل اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہیں اور دوسرا آنچل عورت پکڑ لیتی ہے، تو اس طرح کے تکلّفات کی ضرورت نہیں بلکہ جو طریقہ آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے اسی پر اکتفا کرنا افضل و احسن ہے۔ مؤلف کتاب نے بیعت سے متعلّق اس حدیث کو یہاں باب الصلح میں اس لئے نقل کیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ کا صحابہ کرام سے بیعت لینے کا مرحلہ بھی آیا تھا جو بیعت الرضوان کے نام سے مشہور ہے اور جس کو قرآن کریم نے بھی اس آیت ( لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 48۔ الفتح 18) میں بیان کیا ہے اسی مناسبت سے عورتوں کی بیعت سے متعلّق اس حدیث کو یہاں نقل کیا گیا ہے اگرچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر عورتوں سے بیعت نہیں لی گئی تھی۔
Top