Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 4787
وعنه أن رجلا من أهل البادية كان اسمه زاهر بن حرام وكان يهدي النبي صلى الله عليه وسلم من البادية فيجهزه رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يخرج فقال النبي صلى الله عليه وسلم إن زاهرا باديتنا ونحن حاضروه . وكان النبي صلى الله عليه وسلم يحبه وكان دميما فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يوما وهو يبيع متاعه فاحتضنه من خلفه وهو لا يبصره . فقال أرسلني من هذا ؟ فالتفت فعرف النبي صلى الله عليه وسلم فجعل لا يألوا ما ألزق ظهره بصدر النبي صلى الله عليه وسلم حين عرفه وجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول من يشتري العبد ؟ فقال يا رسول الله إذا والله تجدني كاسدا فقال النبي صلى الله عليه وسلم لكن عند الله لست بكاسد رواه في شرح السنة
خوش طبعی کا ایک واقعہ
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ شہر سے باہر رہنے والا ایک شخص جس کا نام زاہر بن حرام تھا آنحضرت ﷺ کے لئے بطور ہدیہ شہر کے باہر سے کچھ لایا کرتا تھا (یعنی ایسی چیزیں جو شہر سے باہر جنگل میں پیدا ہوتی ہیں جیسے ساگ، سبزی، لکڑی اور پھول پھل وغیرہ) اور جب وہ مدینہ سے باہر اپنی جائے سکونت کو جانے لگتا تو رسول اللہ اس کے ساتھ کچھ شہر کا سامان کردیا کرتے تھے آنحضرت ﷺ اس کے بارے میں فرماتے تھے کہ زاہر ہمارے باہر کا گماشتہ ہے کہ وہ ہمارے لئے باہر کی چیزیں لاتا ہے اور ہم اس کے شہر کے گماشتہ ہیں کہ ہم اس کو شہر کی چیزیں دیتے ہیں نیز آنحضرت ﷺ زاہر سے بہت محبت وتعلق رکھتے تھے ویسے وہ ایک بدصورت شخص تھا ایک دن آنحضرت ﷺ بازار میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ اپنا سودا سلف بیچ رہا ہے آپ نے پیچھے سے اس کی اس طرح کو لی بھر لی کہ وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتا تھا (یعنی آپ نے اس کی بیخبر ی میں اس کے پیچھے بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ اس کی دونوں بغلوں کے نیچے سے نکال کر اس کی آنکھیں چھپا لیں تاکہ وہ پہچان نہ سکے) زاہر نے کہا مجھے چھوڑ دو یہ شخص کون ہے پھر اس نے کوشش کر کے کن انکھیوں سے دیکھا اور آنحضرت ﷺ کو پیچان لیا پھر وہ آپ کو پہچاننے کے بعد اپنی پیٹھ کو آنحضرت ﷺ کے سینہ مبارک سے چمٹانے کی پوری کوشش کرنے لگا تاکہ زیادہ سے زیادہ برکت حاصل کرے ادھر آنحضرت ﷺ نے یہ آواز لگانی شروع کردی کہ کون شخص ہے جو اس غلام کو خریدے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کی قسم آپ مجھ کو ناکارہ پائیں گے (یعنی بالکل سستا اور بےکار مال) آنحضرت ﷺ کریم نے فرمایا لیکن تم اللہ کے نزدیک ناکارہ نہیں ہو۔ (شرح السنہ)
تشریح
ا نحضرت ﷺ نے زاہر کو از راہ مذاق غلام سے تعبیر کیا ہے اور حقیقت کے اعتبار سے یہ کوئی جھوٹ بات نہیں تھی کیونکہ وہ اللہ کا غلام بہر حال تھے ہی۔ کسی چیز کو بطور فروخت کرنے کے لئے بطور استفہام یہ کہنا کہ کون شخص ہے جو اس کو خریدتا ہے مفہوم کے اعتبار سے کبھی تو اس چیز کی پیش قیمت حثییت کو ظاہر کرنے کے لئے مقابلہ آرائی پر اطلاق کیا جاتا ہے اور کبھی اس کا اطلاق استدال پر آتا ہے لہذا آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کون شخص ہے جو اس غلام کا خریدار ہے مطلب یہ تھا کہ اس بازار میں ایسا کوئی شخص ہے جو اس غلام کی قدر و قیمت اور اس کی حثییت کا مقابلہ کرے؟ یعنی یہاں کوئی چیز اس کی حثییت کا مقابلہ نہیں کرسکتی یا یہ کہ ایسا کوئی شخص ہے جو اس غلام کی قیمت لگا دے اور ایسی کوئی چیز مجھے دے سکے جس کے بدلے میں اس کو یہ غلام دے سکوں یعنی یہاں کوئی مال اس کا بدل نہیں ہوسکتا اور کوئی چیز اس کی قیمت نہیں بن سکتی، نیز یہ بھی ممکن ہے آپ کا یہ ارشاد تجریف کے قبیل سے ہو جس سے گویا آپ کا مطلب یہ تھا کہ کون شخص ہے جو اس غلام کو حاصل کرے یعنی کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو اس غلام کو حاصل کرنے اور اس کو اپنے پاس رکھنے کا اہل ہو۔
Top