مشکوٰۃ المصابیح - جنگ کرنے کا بیان - حدیث نمبر 5339
عن شقيق عن حذيفة قال كنا عند عمر فقال أيكم يحفظ حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم في الفتنة ؟ فقلت أنا أحفظ كما قال قال هات إنك لجريء وكيف ؟ قال قلت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فتنة الرجل في أهله وماله ونفسه وولده وجاره يكفرها الصيام والصلاة والصدقة والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فقال عمر ليس هذا أريد إنما أريد التي تموج كموج البحر . قال ما لك ولها يا أمير المؤمنين ؟ إن بينك وبينها بابا مغلقا . قال فيكسر الباب أويفتح ؟ قال قلت لا بل يكسر . قال ذاك أحرى أن لا يغلق أبدا . قال فقلنا لحذيفة هل كان عمر يعلم من الباب ؟ قال نعم كما يعلم أن دون غد ليلة إني حدثته حديثا ليس بالأغاليط قال فهبنا أن نسأل حذيفة من الباب ؟ فقلنا لمسروق سله . فسأله فقال عمر . متفق عليه
حضرت عمر ؓ فتنوں کا دروازہ کھلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے
حضرت شقیق تابعی (رح)، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا۔ ہم ایک دن حضرت عمر فاروق ؓ کی خدمت میں حاضر تھے کہ انہوں نے ہم سے پوچھا کہ تم میں سے کسی شخص کو رسول کریم ﷺ کی وہ حدیث یاد ہے جو آپ ﷺ نے فتنہ کے سلسلے میں ارشاد فرمائی ہے، میں نے کہا کہ مجھے یاد ہے اور بالکل اسی طرح یاد ہے جس طرح آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے (یعنی میرے حافظہ میں وہ حدیث کسی کمی وبیشی کے بغیر حرف بہ حرف محفوظ ہے) حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر فرمایا کہ اچھا وہ حدیث بیان کرو تم روایت حدیث میں بہت دلیر ہو، جو کچھ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے اس کو نقل کرو اور اس کی کیفیت بیان کرو۔ حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی کا فتنہ (یعنی اس کی آزمائش اور ابتلا) اس کے اہل و عیال میں ہے، اس کے مال میں ہے، اس کے نفس میں، اس کی اولاد میں ہے اور اس کے ہمسایہ میں ہے۔ اس کے اس فتنہ کو اور اس فتنہ کے سبب وہ جو گناہ کرتا ہے، اس کو روزے، نماز، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دور کردیتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے یہ حدیث سن کر فرمایا کہ میرا مدعا اس فتنے سے نہیں تھا، میں تو اس فتنے کے بارے میں سننا چاہتا تھا جو سمندر کی موجوں کی طرح جوش مارے گا؟ حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا امیر المومنین بھلا آپ کو اس فتنہ سے کیا تعلق؟ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان تو ایک بند دروازہ حائل ہے۔ یعنی اس فتنہ کا آپ کو کیوں فکر ہے، اس کے برے اثرات آپ تک تو پہنچیں گے نہیں کیونکہ اس فتنہ کا ظہور آپ کی زندگی کے بعد ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اچھا یہ بتاؤ کہ وہ دروازہ کہ جس سے فتنہ نکلے گا توڑا جائے گا؟ (یعنی اس کو اس طرح توڑا جائے گا) یا کھولا جائے گا؟ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جواب دیا کہ دروازہ کھولا نہیں جائے گا بلکہ توڑا جائے گا۔ یعنی اس کو اس طرح توڑ پھوڑ کر برابر کردیا جائے کہ پھر اس کا بند ہونا یا قابل مرمت ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر فرمایا۔ اس دروازے کے بارے میں کہ جو کھولا نہیں جائے گا بلکہ توڑا جائے گا زیادہ قرین حقیقت بات یہ ہے کہ وہ کبھی بند ہی نہ ہو۔ حدیث کے راوی حضرت شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ ؓ سے پوچھا کہ کیا حضرت عمر ؓ اس سے واقف تھے کہ دروازے سے مراد کون ہے؟ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ ہاں! حضرت عمر ؓ اس سے واقف تھے جیسا کہ وہ اس بات سے واقف تھے کہ کل کے دن سے پہلے رات آئے گی (یعنی جس طرح ہر شخص یقینی طور پر جانتا ہے کہ کل آنے والے دن سے پہلے رات کا آنا ضروری ہے اسی طرح حضرت عمر ؓ یقینی علم رکھتے تھے کہ دروازہ سے مراد کون ہے) اور اس میں شک نہیں کہ میں حضرت عمر ؓ سے وہ حدیث بیان کی جس میں غلطیاں نہیں ہیں۔ حضرت شقیق کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہمیں حضرت حذیفہ ؓ سے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ دروازے سے مراد کون ہے البتہ ہم نے حضرت مسروق سے عرض کیا جو وہاں موجود تھے کہ آپ حضرت حذیفہ ؓ سے پوچھ لیجئے، چناچہ انہوں نے حضرت حذیفہ ؓ سے پوچھا تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ دروازے سے مراد حضرت عمر ؓ ہیں، یعنی حضرت عمر ؓ کی ذات ایک ایسے دروازے کی طرح ہے جس نے اس امت اور اسلامی مملکت میں فتنہ و فساد کے درآنے سے روک رکھا ہے ان کے بعد فتنوں کا دروازہ کھل جائے گا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
تم روایت حدیث میں بہت دلیر ہو حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں حضرت عمر ؓ کا یہ جملہ ان کے اظہار ناگواری کا بھی احتمال رکھتا ہے اور ان کے اظہار تحسین کا بھی یعنی ایک احتمال تو یہ ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے چونکہ اور صحابہ کی موجودگی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں حضور ﷺ کی حدیث کو بعینہ یاد رکھتا ہوں اور اس بارے میں میرا حافظہ بہت قوی اور قابل اعتماد ہے اس لئے حضرت عمر ؓ کو ان کی یہ بات ناگوار ہوئی، پس انہوں نے اس ناگواری کو ظاہر کرنے کے لئے فرمایا کہ تم بڑے عجیب قسم کے دلیر ہو؟ آخر تمہیں ایک ایسی بات کا دعویٰ کرنے کی جرات کیسے ہوگئی جس کو نہ میں جانتا ہوں اور نہ یہاں موجود دوسرے صحابہ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اچھا اگر تمہیں اپنے حافظہ پر ایسا ہی ناز ہے تو سناؤ کہ حضور ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟ یہ تو پہلا احتمال ہوا دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس جملے کے ذریعے دراصل حضرت حذیفہ ؓ کی تحسین و تائید فرمائی، یعنی انہوں نے گویا یہ فرمایا کہ تمہارے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہوں کیونکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ سے اس امت میں پیدا ہونے والے فتنوں اور ظاہر ہونے والی برائیوں کے بارے میں بڑی جرات اور دلیری کے ساتھ سوالات کیا کرتے تھے اور اکثر و بیشتر حضور ﷺ سے پوچھتے رہتے تھے، لہٰذا تمہیں یقینا فتنہ کے بارے میں حضور ﷺ کے ارشادات کا زیادہ علم ہوگا اور اس سلسلے کی حدیث پوری طرح یاد ہوگی، ہمیں وہ حدیث ضرور سناؤ کہ حضور ﷺ نے کیا فرمایا۔ آدمی کا فتنہ اس کے اہل و عیال میں ہے الخ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کا تعلق مختلف چیزوں جیسے اہل و عیال اور مال و دولت وغیرہ سے قائم کیا، پھر اس کو ان چیزوں کے حقوق پہچاننے اور ان حقوق کو ادا کرنے کا ذمہ قرار دے کر ایک طرح کی آزمائش سے دو چار کیا ہے لیکن یہ انسان کی غفلت ونادانی ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کی رعایت ملحوظ نہیں رکھتا اور جو حقوق اس پر عائد کئے گئے ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی وتقصیر کرتا ہے، ان متعلق چیزوں کے سلسلے میں اللہ نے اس کو جو حکم دیا ہے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ان چیزوں کی وجہ سے نہ صرف گناہ اور ممنوع امور کے ارتکاب کا وبال اپنے سر لیتا ہے بلکہ خود کو تعب و رنج اور مشقت و ایذاء میں گرفتار کرتا ہے لہٰذا اس صورت میں انسان کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں جو کوتاہی اور گناہوں کا جو ارتکاب اس سے ہوتا ہے اس کے ازالہ اور کفارہ کے لئے اچھے کام جیسے نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات وغیرہ کرتا رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ان الحسنات یذہبن السیئات) یعنی بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ میرا مدعا اس فتنہ سے نہیں تھا یعنی جب حضرت عمر ؓ نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں کسی شخص کو فتنہ کے سلسلے میں آنحضرت ﷺ کی حدیث یاد ہے، تو ان کا یہ پوچھنا دو احتمال رکھا تھا۔ ایک یہ کہ فتنہ سے ان کی مراد امتحان و آزمائش ہو جس میں انسان کو اولاد ومال وغیرہ کے تعلق سے مبتلا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے آیت (ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع) الخ۔ اور دوسرے یہ کہ فتنہ سے ان کی مراد باہمی قتل و قتال اور افتراق و انتشار ہو۔ چناچہ حضرت عمر ؓ کے سوال کا تعلق اس دوسرے مفہوم سے تھا، یعنی انہوں نے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تھا جس میں حضور ﷺ نے باہمی قتل و قتال اور افتراق و انتشار کے فتنہ و فساد کا ذکر فرمایا تھا۔ لیکن حضرت حذیفہ ؓ نے یہ سمجھا کہ حضرت عمر ؓ پہلے مفہوم سے متعلق حدیث کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اور اسی لئے انہوں نے اس کے مطابق حدیث بیان کی، اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میرے پوچھنے کا مدعا یہ فتنہ نہیں تھا، میری مراد اس فتنہ کے بارے میں حضور ﷺ کی حدیث سننا تھا جو باہمی قتل و قتال اور آپس میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ و محاذ آرائی کی صورت میں اس امت پر سیاہ بادل کی صورت میں چھا جائے گا اور اس کے برے اثرات تمام مسلمانوں کو سخت مصائب و پریشانی میں مبتلا کردیں گے۔ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان تو ایک بند دروازہ حائل ہے بند دروازہ سے مراد حضرت عمر ؓ کے وجود با مسعود کی طرف اشارہ کرنا تھا، جیسا کہ حدیث کے آخری الفاظ سے اس کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے، چناچہ حضرت حذیفہ ؓ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ آپ جس فتنہ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں وہ ابھی دور ہے، کیونکہ جب تک اس امت میں آپ کا وجود باقی ہے وہ فتنہ راہ نہیں پائے گا ہاں جب آپ اس دنیا سے اٹھ جائیں گے تو وہ فتنہ در آئے گا اور امت میں راہ پا جائے گا۔ وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ یعنی آیا وہ دروازہ اتنا سخت اور مضبوط ہوگا کہ بغیر توڑے اس کو کھولا نہیں جاسکے گا یا اتنا کمزور اور ہلکا ہوگا کہ آسانی کے ساتھ اس کو کھول دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کسی دروازہ کو توڑنے اور اس کو کھولنے میں فرق ہوتا ہے۔ ایک دروازہ تو وہ ہوتا ہے جس کو توڑے بغیر آمدورفت کا راستہ بنانا ممکن نہیں ہوتا جب وہ دروازہ ٹوٹ جاتا ہے تو پھر اس کا بند ہونا ممکن نہیں ہوتا، اس کے برخلاف جو دروازہ صرف کھولا جاتا ہے اس کو بند کرنا ممکن ہوتا ہے، چناچہ یہاں بند دروازہ تمثیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے ہے جس کا مقصد یہ تشبیہ دینا ہے کہ فرض کرو کہ دو گھر ہیں جن کے درمیان ایک دیوار حائل ہے اور اس دیوار میں ایک بند دروازہ کی وجہ سے فتنہ و فساد کو کوئی راہ نہیں ملتی کہ وہ امن و عافیت کے گھر میں در آئے اور اس گھر کے امن و سکون کو تہ وبالا کر دے پس حضرت عمر ؓ کی حیات فتنوں کے روکے رکھنے والے بند دروازے کے مماثل اور اور ان کی موت، ان فتنوں کے دروازے کھل جانے کے مماثل ہوئی، اس طرح اس دروازے کو توڑے جانے کو ان کے قتل کے ساتھ اور اس دروازے کو کھولے جانے کو ان کی قدرتی موت کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔
Top