مشکوٰۃ المصابیح - باری مقرر کرنے کا بیان - حدیث نمبر 4718
عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة : لا هجرة ولكن جهاد ونية وإذا استنفرتم فانفروا . وقال يوم فتح مكة : إن هذا البلد حرمه الله يوم خلق السماوات والأرض فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة وإنه لم يحل القتال فيه لأحد قبلي ولم يحل لي إلا ساعة من نهار فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة لا يعضد شوكه ولا ينفر صيده ولا يلتقط لقطته إلا من عرفها ولا يختلى خلاها . فقال العباس : يا رسول الله إلا الأذخر فإنه لقينهم ولبيوتهم ؟ فقال : إلا الأذخر وفي رواية لأبي هريرة : لا يعضد شجرها ولا يلتقط ساقطتها إلا منشد
کسی مسلمان کی طرف فسق کی نسبت نہ کرو
اور حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی آدمی کو فاسق نہ کہے اور نہ اس پر کفر کی تہمت لگائے کیونکہ اگر وہ آدمی فسق یا کفر کا حامل نہیں ہے تو اس کا کہا ہوا اسی طرف لوٹ جائے گا۔ (بخاری)

تشریح
۔ مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کو نہ تو فاسق کہو اور نہ اس کی طرف کفر کی نسبت کرو کیونکہ اگر کسی شخص نے کسی ایسے مسلمان کو فاسق کہا جو حقیقت میں فاسق نہیں ہے تو وہ کہنے والاخود فاسق ہوگا اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی ایسے شخص کو کافر کہا جو حقیقت میں کافر نہیں ہے بلکہ مومن ہے تو وہ کہنے والا خود کافر ہوجائے گا جیسا کہ پچھلی حدیث کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے۔
Top