مشکوٰۃ المصابیح - زکوۃ کا بیان - حدیث نمبر 1775
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : لما نزلت ( والذين يكنزون الذهب والفضة ) كبر ذلك على المسلمين . فقال عمر أنا أفرج عنكم فانطلق . فقال : يا نبي الله قد كبر على أصحابك هذه الآية . فقال نبي الله صلى الله عليه و سلم : إن الله لم يفرض الزكاة إلا ليطيب بها ما بقي من أموالكم وإنما فرض المواريث وذكر كلمة لتكون لمن بعدكم قال فكبر عمر . ثم قال له : ألا أخبرك بخير ما يكنز المرء المرأة الصالحة إذا نظر إليها سرته وإذا أمرها أطاعته وإذا غاب عنها حفظته . رواه أبو داود
مانعین زکوٰۃ کو قرآن کی تنبیہ
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ ( وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ) 9۔ التوبہ 34) اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں (آخر تک) نازل ہوئی تو صحابہ ؓ بڑے متفکر ہوئے ان کی حالت دیکھ کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں تمہارے اس فکر کو ابھی دور کئے دیتا ہوں چناچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! یہ آیت تو آپ کے صحابہ پر بڑا بار ہوگئی ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو اسی لئے فرض کیا ہے تاکہ وہ تمہارے باقی مال کو پاک کر دے نیز اللہ تعالیٰ نے میراث کو اس لئے مقرر کیا ہے اور اس کے بعد آپ ﷺ نے کلمہ ذکر فرمایا کہ جو لوگ تمہارے بعد رہ جائیں وہ ان کا حق ہوجائے۔ حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر اس جوش مسرت سے کہ ایک مشکل آسان ہوگئی اللہ اکبر کہا اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی بہترین چیز نہ بتادوں جسے انسان اپنے پاس رکھ کر خوش ہو اور وہ نیک بخت عورت ہے کہ اس کی طرف مرد دیکھے تو اس کی طبیعت خوش ہو جب وہ اسے کوئی حکم دے تو اس کی اطاعت کرے اور جب وہ گھر میں موجود نہ ہو تو اس کے بچوں کی حفاظت کرے۔ (ابو داؤد)

تشریح
قرآن حکیم نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کو انتباہ فرمایا ہے وہ پوری آیت یوں ہے ( وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) 9۔ التوبہ 34) جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور پھر اس میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔ یعنی جو لوگ مال و دولت جمع کرتے ہیں اور اس مال کا حق نہیں نکالتے بایں طور کہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو انہیں آگاہ کر دیجئے کہ عنقریب وہ دن آنے والا ہے جب انہیں اس جرم کی سزا ملے گی اور وہ دردناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ ان کے مال کو دوزخ کی آگ میں تپاتپا کر اس سے ان مالداروں کی پیشانیوں اور ان کے پہلو داغے جائیں گے۔ (جیسا کہ پہلے ایک حدیث نے اس کی وضاحت کی ہے) ہے۔ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ بڑے متفکر ہوئے اور انہیں بڑا خوف معلوم ہوا کیونکہ وہ آیت کے ظاہری مفہوم سے یہ سمجھے کہ مطلقاً مال جمع کرنا شریعت کی نظر میں بڑا سخت جرم ہے جس کے بارے میں یہ آیت آگاہ کر رہی ہے۔ چناچہ حضرت عمر ؓ نے صحابہ کی یہ کیفیت دیکھ کر آنحضرت ﷺ سے اس کے بارے میں عرض کیا اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ زکوٰۃ تو اسی لئے فرض کی گئی ہے کہ اس کی ادائیگی سے بقیہ مال پاک ہوجائے جب مال میں سے زکوٰۃ ادا کردی جائے گی تو جو مال باقی رہ گیا ہے وہ پاک ہوجائے گا اب اگر وہ مال جمع کیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لہٰذا آیت کریمہ میں جو وعید بیان فرمائی گئی ہے وہ مطلقاً مال جمع کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ وہ اس صورت کے لئے ہے کہ مال جمع کیا ہے اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے، اگر کوئی شخص زکوٰۃ نکال کر مال جمع کرے تو اس کے لئے کوئی وعید نہیں ہے۔ وذکر کلمۃً (اور اس کے بعد آپ نے ایک اور کلمہ کا ذکر کیا) یہ جملہ حدیث کے راوی حضرت ابن عباس ؓ کا ہے یعنی حضرت ابن عباس اس موقع پر یہ فرما رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے وانما فرض المواریث کے بعد ایک جملوہ اور ارشاد فرمایا تھا مگر وہ جملہ کیا تھا؟ اب مجھے یاد نہیں رہا، اب تو مجھے صرف اسی قدر یاد ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میراث کو اسی لئے فرض قرار دیا ہے تاکہ وہ تمہارا مال تمہارے بعد والوں یعنی تمہارے وارثوں کا حق ہوجائے۔ گویا اس بات سے بھی آنحضرت ﷺ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ اگر مطلقاً مال جمع کرنا شریعت کی نظر میں قابل نفریں فعل ہوتا تو اللہ تعالیٰ نہ زکوٰۃ کو فرض قرار دیتا اور نہ میراث فرض قرار پاتی زکوٰۃ اور میراث کا فرض ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جائز طریقوں سے جمع کرنا برا نہیں ہے۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اس مال کا حق یعنی زکوٰۃ و صدقہ ادا ہوتا رہنا چاہئے۔ جب آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو بتایا کہ جب تک زکوٰۃ ادا ہوتی رہے مال جمع کرنا ممنوع نہیں ہے اور صحابہ نے ایک الجھن اور خوف سے نکل کر اطمینان و خوشی محسوس کی تو آپ ﷺ نے ان کی کیفیت کے پیش نظر ان کو اس چیز کی طرف رغبت دلائی جو مال سے بہر صورت بہتر ہے یعنی عورت۔ گویا اس بارے میں آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ نیک بخت و خوبصورت بیوی مال سے بدرجہا بہتر اور افضل ہے کیونکہ روپیہ پیسہ اور سونا چاندی کسی کے پاس ٹھہرنے والی چیز نہیں ہے پھر یہ کہ سونے چاندی کو جمع کر کے اپنے خزانہ میں محفوظ رکھو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں نہ اس سے کوئی نفع اور نہ راحت۔ ہاں جب اپنی کسی ضرورت کے تحت اسے خرچ کرو اور وہ تم سے جائے تو صرف اس وقت وہ تمہارے کام آئے بخلاف بیوی کے وہ جب تک تمہارے ساتھ ہے تمہاری رفیق حیات اور باعث راحت بنی رہتی ہے۔ جب تم اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہو تو تمہاری طبیعت خوش ہوجاتی ہے تمہیں کوئی ضرورت ہوتی ہے تو وہ فورا اسے پورا کرتی ہے جب تم اسے کوئی حکم کرتے ہو تو فورا اطاعت کرتی ہے ہر وقت تمہاری نفسیاتی تسکین و راحت کا ذریعہ بنی رہتی ہے جب تم گھر سے باہر نکلتے ہو تو تمہارے بچوں اور تمہارے مال و اسباب کی نگہبان ہوتی ہے اور اس سے تمہاری اولاد پیدا ہوتی ہے جو نہ صرف یہ کہ زندگی میں تمہاری قوت بازو بنتی ہے بلکہ مرنے کے بعد تمہاری جانشین ہو کر خاندان کا نام زندہ و روشن رکھتی ہے۔ اس طرح عورت سے بہت زیادہ منفعت اور راحت حاصل ہوتی ہے پھر یہ کہ بیوی نہ صرف یہ کہ اپنے شوہر کی دنیاوی زندگی میں اطمینان و سکون اور خوشی و مسرت کے سدا بہار پھول کھلاتی ہے بلکہ اخروی طور پر اس کو بہت برے افعال اور برے کاموں سے روکتی ہے یہی وجہ ہے کہ ایک مرفوع روایت میں یہ منقول ہے کہ جس شخص نے نکاح کیا اس نے اپنا دو تہائی ایمان و دین مضبوط کرلیا۔
Top