مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 687
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يكون كنز أحدكم يوم القيامة شجاعا أقرع يفر منه صاحبه وهو يطلبه حتى يلقمه أصابعه . رواه أحمد
ابن صیاد کا ذکر
اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن سر راہ) میری ملاقات ابن صیاد سے ہوگئی، اس وقت اس کی آنکھ سوجی ہوئی ( اور ورم آلود تھی، میں نے پوچھا کہ تیری اس آنکھ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں ( یعنی ورم) یہ کب سے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا کب سے ہے میں نے کہا تجھ کو نہیں معلوم حالانکہ آنکھ تیرے سر میں ہے اس نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو آنکھ کو تمہارے عصا میں پیدا کر دے ابن عمر کہتے ہیں کہ ( اس کے بعد) ابن صیاد نے اپنی ناک سے گدھے کی اتنی سخت آواز کی مانند کہ جو میں نے سنی ہے) ایک آواز نکالی۔ ( مسلم )

تشریح
آنکھ کو تمہارے عصا میں پیدا کر دے اس جملہ سے ابن صیاد کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ جمادات ( یعنی بےحس و حرکت اشیاء جیسے پتھر اور لکڑی وغیرہ) میں سے کسی چیز میں آنکھ لگا دے اور پھر اس آنکھ میں درد پیدا ہوجائے تو اس چیز کو نہ آنکھ کا احساس ہوگا اور نہ آنکھ کے اس درد کا تو اسی طرح یہ عین ممکن ہیں کہ کسی ایسے انسان کی آنکھ میں تکلیف کی کوئی علامت پیدا ہوجائے جو ہر وقت ذہنی ( جسمانی طور پر مشغول ومستغرق رہتا ہو تو اس کو کثرت اشتغال اور ہجوم افکار کی وجہ سے اس درد و تکلیف کا احساس نہ ہوگا!۔
Top