مشکوٰۃ المصابیح - مناروں پر کنکریاں پھینکنے کا بیان - حدیث نمبر 4392
عن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقف في حجة الوداع بمنى للناس يسألونه فجاءه رجل فقال : لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح . فقال : اذبح ولا حرج فجاء آخر فقال : لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي . فقال : ارم ولا حرج . فما سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن شيء قدم ولا أخر إلا قال : افعل ولا حرج وفي رواية لمسلم : أتاه رجل فقال : حلقت قبل أن أرمي . قال : ارم ولا حرج وأتاه آخر فقال : أفضت إلى البيت قبل أن أرمي . قال : ارم ولا حرج وعن ابن عباس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يسأل يوم النحر بمنى فيقول : لا حرج فسأله رجل فقال : رميت بعد ما أمسيت . فقال : لا حرج . رواه البخاري
باپ کی بیوی سے نکاح حرام ہے
اور حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک دن میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار میرے پاس سے اس حال میں گزرے کہ ان کے ہاتھ میں ایک نشان تھا میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں جار ہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے رسول کریم ﷺ نے مجھے اس شخص کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں اس کا سر کاٹ کر آپ کی خدمت میں لے آؤں۔ (ترمذی) اور ابوداؤد کی ایک اور روایت میں نیز نسائی ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ ابوبردہ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال و اسباب لے آؤں۔ اور اس روایت میں میرے ماموں کی جگہ میرے چچا کے الفاظ ہیں (لہذا یہ بات مختلف فیہ ہوگئی کہ حضرت بردہ بن نیاز حضرت براء بن عازب کے ماموں تھے یا چچا تھے؟

تشریح
آنحضرت ﷺ نے ابوبردہ کو اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر نیوالے کی گردن مارنے کے لئے بھیجا تو ان کے ہاتھ میں بطور نشان ایک جھنڈا دیدیا تھا تاکہ لوگ اس علامتی جھنڈے کو دیکھ کر جان لیں کہ یہ شخص مذکورہ بالا خدمت کی انجام دہی کے لئے دربار رسالت فرستادہ ہے۔ طیبی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ابوبردہ کو جس شخص کی گردن مارنے کا حکم دیا تھا اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر کے شریعت اسلام کے ایک ظاہری حکم کی خلاف ورزی ہی نہیں کی تھی بلکہ اس کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کرنا حلال ہے جیسا کہ اہل جاہلیت یعنی کفار ایسا عقیدہ رکھتے تھے لہذا اسلامی شریعت کا یہ فیصلہ ہے کہ جو شخص کسی حرام چیز کے حلال ہونے کا عقیدہ رکھے وہ کافر ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کر ڈالنا اور اس کا مال و اسباب ضبط کرلینا جائز ہے۔
Top