مشکوٰۃ المصابیح - شکار کا بیان - 3969
وعن أبي ثعلبة الخشني قال : قلت : يا نبي الله إنا بأرض قوم أهل كتاب أفنأكل في آنيتهم وبأرض صيد أصيد بقوسي وبكلبي الذي ليس بمعلم وبكلبي المعلم فما يصلح ؟ قال : " أما ذكرت من آنية أهل الكتاب فإن وجدتم غيرها فلا تأكلوا فيها وإن لم تجدوا فاغسلوها وكلوا فيها وما صدت بقوسك فذكرت اسم الله فكل وما صدت بكلبك المعلم فذكرت اسم الله فكل وما صدت بكلبك غير معلم فأدركت ذكاته فكل "
حضرت ابوثعلبہ خشنی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا " اے اللہ کے نبی ! ہم ایک ایسی قوم کے درمیان سکونت پذیر ہیں جو اہل کتاب ہے، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی سکتے ہیں اور ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہیں میں اپنی کمان ( یعنی تیر) اور تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ بھی شکار مارتا ہوں اور غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ بھی شکار کرتا ہوں تو میرے لئے کون سی چیز درست ہے ؟ " آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو تم نے اہل کتاب کے برتنوں کے بارے میں پوچھی ہے تو ( ان کے متعلق یہ حکم ہے کہ) اگر ان برتنوں کے علاوہ اور برتن مل سکیں تو پھر ان کے برتنوں میں مت کھاؤ پیو اور اگر دوسرے برتن نہ مل سکیں تو ( پہلے) ان کو دھو مانج لو اور پھر ان میں کھا پی لو۔ رہی شکار کی بات تو جس جانور کو تم نے اپنے تیر سے شکار کیا ہے اور ( تیر چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا ہے اس کو کھالو اسی طرح جس جانور کو تم نے تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ شکار کیا ہے اور ( اس کتے کو چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا ہے تو اس کو بھی کھا سکتے ہو۔ " (بخاری و مسلم)

تشریح
" ان کے برتنوں میں مت کھاؤ " یہ حکم احتیاط کے پیش نظر ہے اور اس کے کہی سبب ہیں ایک تو یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے دع ما یریبک الی مالا یریبک دوسرے اس بات سے آگاہ کرنا مقصود ہے کہ حتی الامکان ان کے مستعمل برتنوں میں کھانے پینے سے احتراز کیا جائے اگرچہ ان کو دھو لیا گیا ہو۔ اور تیسرے مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ راسخ کرنا بھی مقصود ہے کہ مسلمانوں کے سامنے ان کا یہ ملی تقاضہ بہر صورت رہنا چاہئے کہ وہ ان ( اہل کتاب) کے ساتھ رہن سہن اور باہمی اختلاط رکھنے سے نفرت کریں۔ تاہم یہ حکم کہ " ان کے برتنوں میں مت کھاؤ " دراصل تقوی کی راہ ہے اور اس بارے میں جو کچھ فتوی ہے وہ خود حدیث نے آگے بیان کردیا ہے۔ " ان کو دھو مانج لو " یہ حکم اس صورت میں تو بطریق وجوب ہوگا جب کہ ان برتنوں کے نجس و ناپاک ہونے کا ظن غالب ہو اور اس صورت میں بطریق استحباب ہوگا جب کہ ان کی نجاست کا ظن غالب نہ ہو۔ برماوی نے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر ان ( اہل کتاب) کے برتنوں کے علاوہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں تو اس صورت میں ان کے برتنوں کو دھو کر بھی اپنے کھانے پینے کے استعمال میں نہیں لانا چاہئے۔ جب کہ فقہاء نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ ان کے برتنوں کے دھو لینے کے بعد استعمال کرنا بہر صورت جائز ہے۔ خواہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں یا نہ مل سکتے ہوں۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ حدیث سے جو کراہت ثابت ہوتی ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جن میں وہ لوگ سور کا گوشت پکاتے کھاتے ہوں یا جن میں شراب پینے کے لئے رکھتے ہوں، لہذا ایسے برتن چونکہ ایمانی نقطہ نظر سے بےحد گھناؤ نے ہوتے ہیں، اس لئے ان کو اپنے استعمال میں لانا مکروہ ہے خواہ ان کو کتنا ہی دھو مانج کیوں نہ لیا جائے اور فقہاء نے جو مسئلہ بیان کیا ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جو سور کے گوشت جیسی نجاستوں اور ناپا کیوں میں زیادہ مستعمل نہیں ہوتے۔
Top