مشکوٰۃ المصابیح - غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان - حدیث نمبر 3031
وعن سمرة بن جندب : أنه كانت له عضد من نخل في حائط رجل من الأنصار ومع الرجل أهله فكان سمرة يدخل عليه فيتأذى به فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكرذلك له فطلب إليه النبي صلى الله عليه و سلم ليبيعه فأبى فطلب أن يناقله فأبى قال : فهبه له ولك كذا أمرا رغبه فيه فأبى فقال : أنت مضار فقال للأنصاري : اذهب فاقطع نخله . رواه أبو داود وذكر حديث جابر : من أحيى أرضا في باب الغصب برواية سعيد بن زيد . وسنذكر حديث أبي صرمة : من ضار أضر الله به في باب ما ينهى من التهاجر
جانوروں کو لڑانے کی ممانعت
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جانوروں کو ایک دوسرے پر ابھارنے ( یعنی ان کو آپس میں لڑانے سے) منع فرمایا ہے۔ ( ترمذی، ابوداؤد)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اونٹوں، ہاتھیوں، مینڈھوں، بیلوں، بھینسوں اور ان کے علاوہ دوسرے چوپایوں کو آپس میں لڑانا نہیں چاہئے، اسی طرح پرند جانوروں کا بھی یہی حکم ہے۔ مرغیوں اور بیٹروں وغیرہ کا بھی آپس میں لڑانا ممنوع ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب جانوروں کو لڑانے کی ممانعت ہے تو آدمیوں کو آپس میں لڑانا بطریق اولی ممنوع ہوگا۔
Top