Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مؤطا امام مالک - - حدیث نمبر 2720
وعن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يأتي بني قريظة فيأتيني بخبرهم ؟ فانطلقت فلما رجعت جمع لي رسول الله صلى الله عليه و سلم أبويه فقال : فداك أبي وأمي . متفق عليه
حضرت زبیر کی قدر ومنزلت
اور حضرت زبیر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کون ہے جو بنی قریظہ (کے یہودیوں) میں جائے اور ان کے بارے میں ضروری معلومات لا کر مجھے دے، چناچہ (آپ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر) میں روانہ ہوگیا اور جب ان کے بارے میں معلومات حاصل کرکے واپس آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ماں باپ دونوں پر جمع کردیئے، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا میرے ماں باپ تم پر صدقے۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
بنوقریظہ کے یہودیوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر ایسی عہد شکنی اور بد معاملگی کا ارتکاب کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کی سرکوبی ضروری سمجھا اور غزوہ احزاب سے فارغ ہوتے ہی ان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے پندرہ روز تک (ایک تاریخی روایت کے مطابق پچیس روز) ان کا محاصرہ کئے رکھا اور آخر کار ان کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ پس اسی موقع پر آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ کون بہادر ہے جو بنوقریظہ کے بارے میں جنگی معلومات فراہم کرکے میرے پاس لائے یا یہ کہ غزوہ احزاب میں بھی بنوقریظہ دشمن کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خلاف جنگی کاروائیوں میں شامل تھے ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر بنوقریظہ کے بارے میں ضروری معلومات آپ ﷺ کو درکار ہوں اور آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی ہو۔ میرے ماں باپ تم پر صدقے۔ یہ بارگاہ رسالت کی طرف سے حضرت زبیر کی قدر منزلت کی توثیق کرنا اور ان کے اس کارنامہ پر ان کو زبردست اعزاز عطا کرنا تھا جو انہوں نے نہایت جرأت وبہادری کے ساتھ انجام دیا تھا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بھی شخص یہ الفاظ اسی ہستی کے حق میں استعمال کرتا ہے جس کو وہ نہایت معزز ومکرم سمجھتا ہے اور اس کی تعظیم کرتا ہے اس اعتبار سے حضرت زبیر کی شان میں آنحضرت ﷺ نے دو مرتبہ اپنے ماں باپ دونوں مجھ پر جمع کئے (یعنی یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر صدقے) ایک مرتبہ تو جنگ احد کے موقع پر اور دوسری مرتبہ بنو قریظہ کے خلاف کاروائی کے موقع پر ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت زبیر نے اپنے بیٹے حضرت عروہ سے کہا برخوردار! میرے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کی معیت میں (جنگوں کے دوران) زخمی نہ ہوا ہو۔
Top