Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 2283
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله تعالى : أنا عند ظن عبدي بي وأنا معه إذا ذكرني فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي وإن ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منهم
ذکر تقرب الٰہی کا باعث
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندہ کے گمان کے قریب ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے جب وہ دل سے یا زبان سے مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے پاس ہوتا ہوں پس اگر وہ اپنی ذات میں یعنی خفیہ طور پر اپنے دل میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنی ذات میں یاد کرتا ہوں (یعنی نہ کہ اس کو صرف پوشیدہ طور پر ثواب دیتا ہوں بلکہ اس کو از خود ثواب دیتا ہوں ثواب دینے کا کام کسی اور کے سپرد نہیں کرتا) اگر وہ مجھے جماعت میں (یعنی ظاہری طور پر) یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کا ذکر جماعت میں کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
انا عند ظن عبدی بی (میں اپنے بندہ کے گمان کے قریب ہوں) کا مطلب یہ ہے کہ میرا بندہ میری نسبت جو گمان و خیال رکھتا ہے میں اس کے لئے ویسا ہی ہوں اور اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے جس کی وہ مجھ سے توقع رکھتا ہے اگر وہ مجھ سے عفو معافی کی امید رکھتا ہے تو اس کو معافی دیتا ہوں اور اگر وہ میرے عذاب کا گمان رکھتا ہے تو پھر عذاب دیتا ہوں۔ اس ارشاد کے ذریعہ گویا ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کی امید اس کے عذاب کے خوف پر غالب ہونی چاہئے اور اس کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہئے کہ وہ مجھے اپنی بےپایاں بخشش اور لامحدود رحمت سے نوازے گا۔ ایک روایت میں مذکور ہے کہ اللہ ایک شخص کو دوزخ میں لے جانے کا حکم کرے گا جب اسے کنارہ دوزخ پر کھڑا کیا جائے گا تو وہ عرض کرے گا کہ اے میرے رب تیرے بارے میں میرا گمان اچھا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کو واپس لے آؤ میں اپنے بندہ کے گمان کے قریب ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے۔ امید کا مطلب اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ عمل کیا جائے اور پھر بخشش کا امیدوار رہے بغیر عمل صرف امید ہی پر تکیہ کرلینا ٹھنڈے لوہے کو کوٹنا ہے یعنی ایسی امید کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے پاس ہوتا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو شخص میری یاد میں مشغول رہتا ہے تو میں اسے مزید نیکیوں اور بھلائیوں کی توفیق دیتا ہوں اور اس پر رحمت نازل کرتا ہوں اور اس کی مدد و حفاظت کرتا ہوں۔
Top