Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 2816
وعن أبي مسعود الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن
کتے کی قیمت کا مسئلہ
اور حضرت ابومسعود انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت بدکار عورت کی اجرت اور کاہن کے حلوان یعنی اس کی اجرت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
تشریح
کتے کی خریدوفروخت اور اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کے سلسلہ میں تفصیلی بحث اس سے پہلی حدیث کی تشریح میں کی جا چکی ہے چناچہ اس حدیث میں کتے کی قیمت کے ممنوع ہونے کا جو حکم بیان کیا گیا اس کے بارے میں حنفی علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تھا جب کہ آنحضرت ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا تھا نیز آپ نے کتوں سے فائدہ حاصل کرنی کی بھی ممانعت کردی تھی مگر پھر بعد میں آپ نے یہ اجازت دے دی تھی کہ کتوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یہاں تکہ یہ بھی منقول ہے کہ ایک شخص نے ایک شکاری کتے کو مار ڈالا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ مالک کو اس کتے کے بدلہ میں ایک دنبہ دے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ نہ تو کتے کی خریدوفروخت جائز ہے اور نہ کسی کتے کو مار ڈالنے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس کتے کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے کتا خواہ معلم ہو یا غیر معلم ہو اسی طرح خواہ اس کتے کا پالنا جائز ہو یا ناجائز ہو لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اس کتے کی خریدو فروخت جائز قرار دی ہے جس سے فائدہ اٹھانا مقصود ہو مثلا گھر بار کی نگرانی یا ریوڑ گلوں کی نگہبانی وغیرہ نیز حضرت امام اعظم نے ایسے کتے کو مار ڈالنے والے کے لئے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ وہ اس کتے کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے۔ بدکار عورت کے اس مال کا حکم جو اس نے اپنی بدکاری کی اجرت کے طور پر حاصل کیا ہو گذشتہ حدیث کی تشریح میں ذکر کیا جا چکا ہے کاہن اس شخص کو کہتے ہیں جو آنیوالے زمانہ کی خبریں بتایا کرتا ہے اسی طرح حلوان کے لغوی معنی اگرچہ شیرینی اور مٹھائی ہے لیکن اصطلاحی طور پر عربی میں حلوان اس اجرت کو کہتے ہیں جو کاہن آئندہ کی خبریں معلوم کرنے والے سے وصول کرتا ہے خواہ وہ مٹھائی اور کھانے وغیرہ کی صورت میں ہو یا کپڑے زیور اور نقدی وغیرہ کی شکل میں کاہن کی اجرت کو حلوان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح شیرینی اور مٹھائی کھانے سے طبیعت کو فرحت محسوس ہوتی ہے اسی طرح کاہن کو اپنی یہ اجرت لے کر بہت ہی فرحت محسوس ہوتی ہے کیونکہ بغیر کسی محنت ومشقت کے وہ اچھا خاصا مال بٹور لیتا ہے۔ یہ بات تو معلوم ہی ہوگی کہ جس طرح کاہن کے پاس جانا اور ان سے آئندہ کی خبریں معلوم کرنا حرام ہے اسی طرح پوشیدہ باتوں کو معلوم کرنے کے لئے نجومی اور پامسٹ وغیرہ کے پاس جانا اور ان کی بتائی ہوئی باتوں پر یقین کرنا حرام ہے اس بارے میں کسی عالم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اس کی تفصیلی بحث انشاء اللہ باب السحر والکہانۃ میں آئے گی۔
Top