Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 3171
وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الشغار والشغار : أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته وليس بينهما صداق
-r-nشغار کی ممانعت
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے شغار سے منع کیا ہے اور شغار یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کر دے کہ اس دوسرے شخص کو اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرنا ہوگا اور دونوں میں مہر کچھ نہ ہو (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسلام میں شغار جائز نہیں ہے۔
تشریح
شغار دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کی بیٹی سے نکاح کرنے کی ایک خاص صورت کا نام ہے جیسے کہ زید بکر سے اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح زید سے کر دے گا۔ اور ان دونوں کے نکاح میں مہر کچھ بھی متعین نہ ہو بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک دوسرے کی بیٹی کا تبادلہ ہی گویا مہر ہو اس طرح کا نکاح زمانہ جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے مگر اسلام نے اس سے منع کردیا ہے۔ اس بارے میں فقہی اختلاف یہ ہے کہ حضرت امام شافعی کے ہاں تو اس طرح کا نکاح سرے سے صحیح ہی نہیں ہوتا جبکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس طرح سے نکاح کرے تو وہ نکاح صحیح ہوجائے گا اور مہر مثل دینا لازم ہوگا لیکن حکم یہ ہے کہ اس طرح کے نکاح سے اجتناب کرنا چاہئے۔
Top